تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: طه ٥٤:٢٠

٥٤:٢٠
كلوا وارعوا انعامكم ان في ذالك لايات لاولي النهى ٥٤
كُلُوا۟ وَٱرْعَوْا۟ أَنْعَـٰمَكُمْ ۗ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَـَٔايَـٰتٍۢ لِّأُو۟لِى ٱلنُّهَىٰ ٥٤
كُلُواْﱢ
وَٱرۡعَوۡاْﱣ
أَنۡعَٰمَكُمۡۚﱤﱥ
إِنَّﱦ
فِيﱧ
ذَٰلِكَﱨ
لَأٓيَٰتٖﱩ
لِّأُوْلِيﱪ
ٱلنُّهَىٰﱫ
٥٤ﱬ
كلوا - أيها الناس - من طيبات ما أنبتنا لكم، وارعوا حيواناتكم وبهائمكم. إن في كل ما ذُكر لَعلامات على قدرة الله، ودعوة لوحدانيته وإفراده بالعبادة، لذوي العقول السليمة.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 20:52إلى 20:57

آیت 52 قَالَ عِلْمُہَا عِنْدَ رَبِّیْ فِیْ کِتٰبٍج لَا یَضِلُّ رَبِّیْ وَلَا یَنْسَی ”میرا رب ہی جانتا ہے کہ ایسے لوگ جن کے پاس اللہ کی طرف سے دعوت لے کر کوئی رسول نہیں آیا ‘ ان کے ساتھ کیا معاملہ ہوگا۔ میرا رب ان تمام لوگوں کے حالات سے خوب واقف ہے ‘ نہ تو اس سے غلطی ہوتی ہے اور نہ ہی وہ بھولتا ہے۔ چناچہ ان کے بارے میں وہ خود ہی مناسب فیصلہ کرے گا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون اور اس کے درباریوں کو یہ مسکت جواب دینے کے بعد اپنی تقریر جاری رکھی :