تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

تفسير Bayan ul Quran: سورة طه، الآية 125

١٢٥:٢٠
قال رب لم حشرتني اعمى وقد كنت بصيرا ١٢٥
قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِىٓ أَعْمَىٰ وَقَدْ كُنتُ بَصِيرًۭا ١٢٥
قَالَﳏ
رَبِّﳐ
لِمَﳑ
حَشَرۡتَنِيٓﳒ
أَعۡمَىٰﳓ
وَقَدۡﳔ
كُنتُﳕ
بَصِيرٗاﳖ
١٢٥ﳗ
قال المعرِض عن ذكر الله: ربِّ لِمَ حَشَرْتني أعمى، وقد كنت بصيرًا في الدنيا؟
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 20:124إلى 20:128

آیت 124 وَمَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِکْرِیْ فَاِنَّ لَہٗ مَعِیْشَۃً ضَنْکًا ”ایسا شخص دنیوی زندگی میں اطمینان اور راحت سے محروم کردیا جائے گا۔ پیاس کے مریض کی طرح کہ وہ جتنا چاہے پانی پی لے اس کی پیاس ختم نہیں ہوتی ایسے شخص کی ہوس کبھی ختم نہ ہوگی۔ کروڑوں حاصل کر کے بھی مزید کروڑوں کی خواہش اس کا چین اور اطمینان غارت کیے رکھے گی۔