تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: طه ١٠٩:٢٠

١٠٩:٢٠
يوميذ لا تنفع الشفاعة الا من اذن له الرحمان ورضي له قولا ١٠٩
يَوْمَئِذٍۢ لَّا تَنفَعُ ٱلشَّفَـٰعَةُ إِلَّا مَنْ أَذِنَ لَهُ ٱلرَّحْمَـٰنُ وَرَضِىَ لَهُۥ قَوْلًۭا ١٠٩
يَوۡمَئِذٖ
لَّا
تَنفَعُ
ٱلشَّفَٰعَةُ
إِلَّا
مَنۡ
أَذِنَ
لَهُ
ٱلرَّحۡمَٰنُ
وَرَضِيَ
لَهُۥ
قَوۡلٗا
١٠٩
في ذلك اليوم لا تنفع الشفاعة أحدًا من الخلق، إلا إذا أذن الرحمن للشافع، ورضي عن المشفوع له، ولا يكون ذلك إلا للمؤمن المخلص.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 20:108إلى 20:110

یہ نہایت خوفناک منظر ہے۔ یہ اونچے اونچے پہاڑ ریزہ ریزہ کر کے اور گرد و غابر بنا کر اڑا دیئے جائیں گے۔ اب بلندیوں کی جگہ ایک سیدھا میدان ہوگا۔ ایسا میدان جس میں کوئی نشیب و فرازنہ ہوگا۔ زمین بالکل ہموار ہوگی۔ یعنی تیز ہوا پہاڑوں کو دھوئیں کی طرح اڑا کر زمین کو بالکل میدان کر دے گی۔ تمام اگلے پچھلے لوگ اس چٹیل میدان میں کھڑے ہوں گے۔ لوگوں کی بات اور ان کی حرکت نہایت ہی خاموش اور بےآواز ہوگی۔ جب بھی کوئی منادی پکارنے والا ان کو کسی طرف بلائے گا تو بھیڑوں کے گلے کی طرح اس کے پیچھے نہایت اطاعت کے ساتھ چل پڑیں گے۔

یتبعون الداعی (02 : 801) ” منا دی کی پکار پر سیدھے چلے آئیں گے۔ ‘ یعنی جس طرح زمین ہموار ہوگی اس طرح ان کے دل بھی ہموار ہوں گے ، فوراً حکم کی تعمیل کریں گے۔

اس فضا میں پوری طرح خاموشی ہوگی ، نہایت ہی خوفناک خاموشی

وخشعت الاصوات للرحمٰن فلا تسمع الاھمسا (02 : 801) ” اور آوازیں رحمن کے آگے دب جائیں گی ایک سرسراہٹ کے سوا تم کچھ نہ سنو گے۔ “