تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة
٨٦:٣٨
قل ما اسالكم عليه من اجر وما انا من المتكلفين ٨٦
قُلْ مَآ أَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍۢ وَمَآ أَنَا۠ مِنَ ٱلْمُتَكَلِّفِينَ ٨٦
قُلۡ
مَآ
أَسۡـَٔلُكُمۡ
عَلَيۡهِ
مِنۡ
أَجۡرٖ
وَمَآ
أَنَا۠
مِنَ
ٱلۡمُتَكَلِّفِينَ
٨٦
قل -أيها الرسول- لهؤلاء المشركين من قومك: لا أطلب منكم أجرًا أو جزاءً على دعوتكم وهدايتكم، ولا أدَّعي أمرًا ليس لي، بل أتبع ما يوحى إليَّ، ولا أتكلف تخرُّصًا وافتراءً.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 38:86إلى 38:88

داعی کی ایک لازمی صفت یہ ہے کہ وہ مدعو سے اجر کا طالب نہیں ہوتا۔ وہ اپنے اور مدعو کے درمیان کوئی مادی جھگڑا نہیں کھڑا کرتا۔ قرآن کی دعوت آخرت کی دعوت ہے۔ اس ليے جو شخص ایسا کرے کہ وہ ایک طرف قرآن کی دعوتِ آخرت کا علم بردار ہو، اور اسی کے ساتھ مدعو قوم سے مادی مطالبات کی مہم بھی چلائے وہ مدعو کی نظر میں ایک غیر سنجیدہ آدمی ہے۔ اور جو آدمی خود اپنی غیرسنجیدگی ثابت کردے اس کی بات پر کون دھیان دے گا۔

اسی طرح داعی اپنی طرف سے بنا کر کوئی بات نہیں کہتا۔ وہ بس وہی کہتا ہے جو خدا کی طرف سے اس کو ملا ہے۔ مسروق تابعی کہتے ہیں کہ ہم عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔ انھوںنے کہا کہ اے لوگو، جو شخص کچھ جانتا ہو تو اس کو چاہيے کہ بولے۔ اور جو شخص نہ جانتا ہو تو ا س کو یہ کہنا چاہيے کہ اللہ ہی زیادہ جانتا ہے۔ یہ علم کی بات ہے کہ آدمی جس چیز کو نہ جانے اس کے بارہ میں کہہ دے کہ اللہ زیادہ جانتا ہے۔ کیونکہ اللہ عزو جل نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا کہ کہو کہ میں اس پر تم سے اجر نہیں مانگتا اور میں تکلف کرنے والوں میں سے نہیں ہوں (صحیح البخاری، حدیث نمبر 4809)۔

اسی طرح داعی کی یہ صفت ہے کہ وہ دعوت کو نصیحت کے روپ میں پیش کرے۔ اس کا کلام خیر خواہانہ کلام ہو، نہ کہ مناظرانہ کلام۔