تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة
٦٩:٣٨
ما كان لي من علم بالملا الاعلى اذ يختصمون ٦٩
مَا كَانَ لِىَ مِنْ عِلْمٍۭ بِٱلْمَلَإِ ٱلْأَعْلَىٰٓ إِذْ يَخْتَصِمُونَ ٦٩
مَا
كَانَ
لِيَ
مِنۡ
عِلۡمِۭ
بِٱلۡمَلَإِ
ٱلۡأَعۡلَىٰٓ
إِذۡ
يَخۡتَصِمُونَ
٦٩
ليس لي علم باختصام ملائكة السماء في شأن خلق آدم، لولا تعليم الله إياي، وإيحاؤه إليَّ.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 38:65إلى 38:70

یہاں جس اختصام (تکرار) کا ذکر ہے وہ وہی ہے جو اگلی آیت میں منقول ہے یعنی آدم کی تخلیق کے وقت ابلیس کا بحث وتکرار کرنا۔

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ شیطان پہلے روز سے آدم کا دشمن بن گیا ہے۔ وہ پرفریب باتوں کے ذریعہ اولاد آدم کو سیدھے راستہ سے بھٹکاتا ہے۔ اس ليے انسان کو چاہيے کہ وہ ہوشیار رہے اور اس سے پوری طرح بچنے کی کوشش کرے۔ اس سلسلہ میں آدمی کی پیدائش کے وقت جو اختصام ہوا اور اس کو قرآن میں بیان کیا گیا وہ سراسر وحی تھا۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ملأ اعلیٰ میں موجود نہ تھے کہ ذاتی واقفیت کی بنیاد پر اس کو بیان کرسکتے۔

سب سے اہم خبر انسان کےلیے یہ ہے کہ اس کو زندگی کی اس نوعیت سے آگاہ کیا جائے کہ شیطان ہر لمحہ اس کے پیچھے لگا ہوا ہے، وہ اس کی سوچ اور اس کے جذبات میں داخل ہو کر اس کو گمراہ کررہا ہے۔ انسان کو چاہيے کہ وہ اس خطرے سے اپنے آپ کو بچائے۔ پیغمبر ایک اعتبار سے اسی ليے آئے کہ انسان کو اس نازک خطرہ سے آگاہ کردیں۔