تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة
٤٨:٣٨
واذكر اسماعيل واليسع وذا الكفل وكل من الاخيار ٤٨
وَٱذْكُرْ إِسْمَـٰعِيلَ وَٱلْيَسَعَ وَذَا ٱلْكِفْلِ ۖ وَكُلٌّۭ مِّنَ ٱلْأَخْيَارِ ٤٨
وَٱذۡكُرۡ
إِسۡمَٰعِيلَ
وَٱلۡيَسَعَ
وَذَا
ٱلۡكِفۡلِۖ
وَكُلّٞ
مِّنَ
ٱلۡأَخۡيَارِ
٤٨
واذكر -أيها الرسول- عبادنا: إسماعيل، واليسع، وذا الكفل، بأحسن الذكر; إن كلا منهم من الأخيار الذين اختارهم الله من الخلق، واختار لهم أكمل الأحوال والصفات.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

آیت 48 { وَاذْکُرْ اِسْمٰعِیْلَ وَالْیَسَعَ وَذَا الْکِفْلِط وَکُلٌّ مِّنَ الْاَخْیَارِ } ”اور ذکرکیجیے اسماعیل علیہ السلام الیسع علیہ السلام اور ذوالکفل علیہ السلام کا ‘ یہ سب بھی بہت عمدہ لوگوں میں سے تھے۔“ حضرت الیسع اور حضرت ذوالکفل ﷺ کے بارے میں آج ہمیں یقینی معلومات میسر نہیں۔ سورة الانبیاء آیت 85 کی تشریح کے ذیل میں مولانا مناظر احسن گیلانی رح کا یہ خیال نقل کیا گیا تھا اور مجھے اس سے کسی حد تک اتفاق ہے کہ قرآن میں ذو الکفل علیہ السلام کے نام سے جس پیغمبر کا ذکر ہوا ہے وہ دراصل گوتم بدھ تھے۔ ان کا اصل نام سدھارتا تھا۔ ”گوتم بدھ“ یا ”گو تمابدھا“ ان کا لقب تھا جو بعد میں مشہور ہوا۔ آپ ریاست ”کپل وستو“ کے ولی عہد تھے۔ چناچہ جن محققین کا خیال ہے کہ قرآن میں ذوالکفل کے نام سے گوتم بدھ ہی کا ذکر ہے ان کی دلیل یہ ہے کہ ”کفل“ دراصل ”کپل“ ہی کی بدلی ہوئی شکل ہے۔ یعنی ہندی ”پ“ کی جگہ عربی کی ”ف“ نے لے لی ہے اور اس طرح گویا ذوالکفل کے معنی ہیں ”کپل ریاست والا۔“ ٭