تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: قريش ٢:١٠٦

٢:١٠٦
ايلافهم رحلة الشتاء والصيف ٢
إِۦلَـٰفِهِمْ رِحْلَةَ ٱلشِّتَآءِ وَٱلصَّيْفِ ٢
إِۦلَٰفِهِمۡ
رِحۡلَةَ
ٱلشِّتَآءِ
وَٱلصَّيۡفِ
٢
اعْجَبوا لإلف قريش، وأمنهم، واستقامة مصالحهم، وانتظام رحلتيهم في الشتاء إلى "اليمن"، وفي الصيف إلى "الشام"، وتيسير ذلك؛ لجلب ما يحتاجون إليه.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 106:1إلى 106:4

قریش ایک تجارتی قوم تھے۔ گرمی کے زمانہ میں ان کے تجارتی قافلے شام اور فلسطین کی طرف جاتے تھے، اور سردیوں کے زمانہ میں وہ یمن کی طرف تجارتی سفر کرتے تھے۔ انہیں تجارتوں پر ان کی معاشیات کا انحصار تھا۔ قدیم زمانہ میں جب کہ تاجروں کو لوٹنا عام تھا، قریش کے قافلے راستے میں لوٹے نہیں جاتے تھے۔ اس کی وجہ کعبہ سے ان کا تعلق تھا۔ قریش کعبہ کے خادم اور متولی تھے اور لوگوں کے ذہنوں پر چوں کہ کعبہ کا بہت زیادہ احترام تھا۔ وہ کعبہ کے خادموں اور متولیوں کا بھی احترام کرتے تھے اور اس بنا پر وہ ان کو نہیں لوٹتے تھے۔

یہاں حکمتِ دعوت کے تحت قریش کو یہ واقعہ یاد دلاتے ہوئے انہیں اسلام کی طرف بلایا گیا ہے۔ اور کہا گیا ہے کہ یہ بڑی ناشکری کی بات ہوگی کہ تم بیت اللہ کے دنیوی فائدے تو حاصل کرو، اور اس سے وابستہ ہونے کی جو ذمہ داریاں ہیں ان کو پورا نہ کرو۔ جو خدا انسان کو مادی فائدے پہنچاتا ہے اسی خدا کی اس کو عبادت بھی کرني چاہيے۔