تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة
١١:٥٠
رزقا للعباد واحيينا به بلدة ميتا كذالك الخروج ١١
رِّزْقًۭا لِّلْعِبَادِ ۖ وَأَحْيَيْنَا بِهِۦ بَلْدَةًۭ مَّيْتًۭا ۚ كَذَٰلِكَ ٱلْخُرُوجُ ١١
رِّزۡقٗا
لِّلۡعِبَادِۖ
وَأَحۡيَيۡنَا
بِهِۦ
بَلۡدَةٗ
مَّيۡتٗاۚ
كَذَٰلِكَ
ٱلۡخُرُوجُ
١١
أنبتنا ذلك رزقًا للعباد يقتاتون به حسب حاجاتهم، وأحيينا بهذا الماء الذي أنزلناه من السماء بلدة قد أجدبت وقحطت، فلا زرع فيها ولا نبات، كما أحيينا بذلك الماء الأرض الميتة نخرجكم يوم القيامة أحياء بعد الموت.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 50:6إلى 50:15

قرآن نے تاریخ کا جو تصور پیش کیا ہے، اس کے مطابق یہاں بار بار ایسا ہوا ہے کہ پیغمبروں کے انکار کے نتیجہ میں ان کی مخاطب قومیں ہلاک کردی گئیں۔ یہاں انہیں ہلاک شدہ قوموں میں سے کچھ قوموں کا ذکر بطور مثال فرمایا گیا ہے۔ قوموں کی یہ ہلاکت در اصل آخرت کا ایک حصہ ہے۔ منکرین حق کے لیے جو عذاب آخرت میں مقدر ہے اس کا ایک جزء اسی آج کی دنیا میں دکھا دیا جاتا ہے۔

دنیا کی پہلی تخلیق اس کی دوسری تخلیق کے امکان کو ثابت کر رہی ہے۔ اگر آدمی سنجیدہ ہو تو آخرت کو ماننے کے لیے اس کے بعد اسے کسی اور دلیل کی ضرورت نہیں۔