تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: مريم ٤٦:١٩

٤٦:١٩
قال اراغب انت عن الهتي يا ابراهيم لين لم تنته لارجمنك واهجرني مليا ٤٦
قَالَ أَرَاغِبٌ أَنتَ عَنْ ءَالِهَتِى يَـٰٓإِبْرَٰهِيمُ ۖ لَئِن لَّمْ تَنتَهِ لَأَرْجُمَنَّكَ ۖ وَٱهْجُرْنِى مَلِيًّۭا ٤٦
قَالَ
أَرَاغِبٌ
أَنتَ
عَنۡ
ءَالِهَتِي
يَٰٓإِبۡرَٰهِيمُۖ
لَئِن
لَّمۡ
تَنتَهِ
لَأَرۡجُمَنَّكَۖ
وَٱهۡجُرۡنِي
مَلِيّٗا
٤٦
قال أبو إبراهيم لابنه: أمعرض أنت عن عبادة آلهتي يا إبراهيم؟ لئن لم تنته عن سَبِّها لأقتلنَّك رميًا بالحجارة، واذهب عني فلا تلقني، ولا تكلمني زمانًا طويلا من الدهر.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

جواب میں والد صاحب نے کہا کہ ابراہیم تو میرے معبودوں سے نفرت کرتے ہو ‘ اور اس نفرت کی وجہ سے تم ان کی عبادت سے پھرگئے ہو ‘ یا تمہیں اس قدر جرائت ہوگئی ہے ‘ میں تمہیں متنبہ کرتا ہوں کہ اگر تو نے اپنے اس مکروہ موقف پر نظر ثانی نہ کی تو میں تمہیں رجم کردوں گا۔

لئن لم تنتہ لا رجمنک (91 : 64) ” اگر تو باز نہ آیاتو میں تجھے سنگسار کردوں گا “۔ میرے سامنے سے ہٹو اور ہمیشہ کے لئے یہاں سے چلے جائو۔ اسی میں تمہاری خیر ہے ورنہ یہاں زندہ نہ بچو گے۔

واھجرنی ملیا (91 : 64) ” ہمیشہ کے لئے مجھ سے دور ہو جائو “۔

یہ شخص ہدایت کی دعوت کا جواب اس سختی سے دیتا ہے اور نہایت ہی باادب خطاب اور درخواست کو بھی سختی سے رد کردیتا ہے۔ یہ ہے ایمان اور کفر کے درمیان فرق۔ ملاحظہ کیجئے کہ جس دل کو اسلامنے مہذب بنا دیا وہ کیسا ہے اور جس دل کو کفر نے برباد کردیا وہ کیسا ہے ؟ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) طیس میں بھی نہ آئے ‘ انہوں نے بھلائی ‘ محبت اور ادب کو ہاتھ سے جانے نہ دیا اور یوں گویا ہوئے :