تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: مريم ٤٥:١٩

٤٥:١٩
يا ابت اني اخاف ان يمسك عذاب من الرحمان فتكون للشيطان وليا ٤٥
يَـٰٓأَبَتِ إِنِّىٓ أَخَافُ أَن يَمَسَّكَ عَذَابٌۭ مِّنَ ٱلرَّحْمَـٰنِ فَتَكُونَ لِلشَّيْطَـٰنِ وَلِيًّۭا ٤٥
يَٰٓأَبَتِ
إِنِّيٓ
أَخَافُ
أَن
يَمَسَّكَ
عَذَابٞ
مِّنَ
ٱلرَّحۡمَٰنِ
فَتَكُونَ
لِلشَّيۡطَٰنِ
وَلِيّٗا
٤٥
يا أبت، إني أخاف أن تموت على كفرك، فيمَسَّك عذاب من الرحمن، فتكون للشيطان قرينًا في النار.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 19:41إلى 19:45

حضرت ابراہیم عراق میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد آزر بت پرست تھے۔ آپ کو نبوت ملی تو آپ نے اپنے والد کو نصیحت کی کہ بتوں کی عبادت چھوڑ دو اور خدا کی عبادت کرو۔ ورنہ تم خدا کی پکڑ میں آجاؤ گے۔

شیطان کی عبادت کا مطلب خود شیطان کی عبادت نہیں ہے بلکہ شیطان کی بتائی ہوئی چیز کی عبادت ہے۔ انسان کے اندر فطری طورپر یہ جذبہ رکھاگیا ہے کہ وہ کسی کو اونچا درجہ دے کر اس کے آگے اپنے جذباتِ عقیدت کو نثار کرے۔اس جذبہ کا حقیقی مرکز خدا ہے۔ مگر شیطان مختلف طریقہ سے لوگوں کے ذہن کو پھیرتاہے تاکہ وہ انسان کو مشرک بنادے، تاکہ انسان غیر خدا کو وہ چیز دے دے جو اس کو صرف خدا کو دینا چاہیے۔