تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: مريم ٣٣:١٩

٣٣:١٩
والسلام علي يوم ولدت ويوم اموت ويوم ابعث حيا ٣٣
وَٱلسَّلَـٰمُ عَلَىَّ يَوْمَ وُلِدتُّ وَيَوْمَ أَمُوتُ وَيَوْمَ أُبْعَثُ حَيًّۭا ٣٣
وَٱلسَّلَٰمُ
عَلَيَّ
يَوۡمَ
وُلِدتُّ
وَيَوۡمَ
أَمُوتُ
وَيَوۡمَ
أُبۡعَثُ
حَيّٗا
٣٣
والسلامة والأمان عليَّ من الله يوم وُلِدْتُ، ويوم أموت، ويوم أُبعث حيًا يوم القيامة.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 19:29إلى 19:33

حضرت مریم کے اشارہ کے باوجود یہود کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ وہ ایک چھوٹے بچہ سے کس طرح بات کریں۔ اس وقت حضرت مسیح خود بول پڑے۔ ان کی معجزانہ گفتگو میں ایک طرف حضرت مریم کی کامل برأت تھی۔ دوسری طرف یہ ایک پیشگی شہادت تھی۔ تاکہ یہ نومولود جب بڑا ہو کر نبوت کا اعلان کرے تو لوگوں کے لیے آپ کی نبوت پر شک کرنے کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے۔