تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة
١٧:١١
افمن كان على بينة من ربه ويتلوه شاهد منه ومن قبله كتاب موسى اماما ورحمة اولايك يومنون به ومن يكفر به من الاحزاب فالنار موعده فلا تك في مرية منه انه الحق من ربك ولاكن اكثر الناس لا يومنون ١٧
أَفَمَن كَانَ عَلَىٰ بَيِّنَةٍۢ مِّن رَّبِّهِۦ وَيَتْلُوهُ شَاهِدٌۭ مِّنْهُ وَمِن قَبْلِهِۦ كِتَـٰبُ مُوسَىٰٓ إِمَامًۭا وَرَحْمَةً ۚ أُو۟لَـٰٓئِكَ يُؤْمِنُونَ بِهِۦ ۚ وَمَن يَكْفُرْ بِهِۦ مِنَ ٱلْأَحْزَابِ فَٱلنَّارُ مَوْعِدُهُۥ ۚ فَلَا تَكُ فِى مِرْيَةٍۢ مِّنْهُ ۚ إِنَّهُ ٱلْحَقُّ مِن رَّبِّكَ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يُؤْمِنُونَ ١٧
أَفَمَن
كَانَ
عَلَىٰ
بَيِّنَةٖ
مِّن
رَّبِّهِۦ
وَيَتۡلُوهُ
شَاهِدٞ
مِّنۡهُ
وَمِن
قَبۡلِهِۦ
كِتَٰبُ
مُوسَىٰٓ
إِمَامٗا
وَرَحۡمَةًۚ
أُوْلَٰٓئِكَ
يُؤۡمِنُونَ
بِهِۦۚ
وَمَن
يَكۡفُرۡ
بِهِۦ
مِنَ
ٱلۡأَحۡزَابِ
فَٱلنَّارُ
مَوۡعِدُهُۥۚ
فَلَا
تَكُ
فِي
مِرۡيَةٖ
مِّنۡهُۚ
إِنَّهُ
ٱلۡحَقُّ
مِن
رَّبِّكَ
وَلَٰكِنَّ
أَكۡثَرَ
ٱلنَّاسِ
لَا
يُؤۡمِنُونَ
١٧
أفمَن كان على حجة وبصيرة من ربه فيما يؤمن به، ويدعو إليه بالوحي الذي أنزل الله فيه هذه البينة، ويتلوها برهان آخر شاهد منه، وهو جبريل أو محمد عليهما السلام، ويؤيد ذلك برهان ثالث من قبل القرآن، وهو التوراة -الكتاب الذي أنزل على موسى إمامًا ورحمة لمن آمن به-، كمن كان همه الحياة الفانية بزينتها؟ أولئك يصدِّقون بهذا القرآن ويعملون بأحكامه، ومن يكفر بهذا القرآن من الذين تحزَّبوا على رسول الله صلى الله عليه وسلم فجزاؤه النار، يَرِدُها لا محالة، فلا تك -أيها الرسول- في شك من أمر القرآن وكونه من عند الله تعالى بعد ما شهدت بذلك الأدلة والحجج، واعلم أن هذا الدين هو الحق من ربك، ولكن أكثر الناس لا يصدِّقون ولا يعملون بما أُمروا به. وهذا توجيه عام لأمة محمد صلى الله عليه وسلم.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

پیغمبر اسلام نے عرب میں توحید کی دعوت پیش کی تو کچھ لوگوں نے اس کو مانا اور زیادہ لوگ اس کے منکر ہوگئے۔ یہی ہر زمانہ میں دعوت حق کے ساتھ ہوتا رہا ہے۔

خدا نے ہر آدمی کو فطرتِ صحیح پر پیدا کیا ہے۔ گردو پیش کی دنیا میں ہر طرف ایسی نشانیاں پھیلی ہوئی ہیں جو اپنے خالق کا اعلان کرتی ہیں اور اسی کے ساتھ اس کے تخلیقی منصوبہ کی طرف اشارہ کررہی ہیں۔ پھر انسانیت کے بالکل ابتدائی زمانہ سے خدا کے رسول آتے رہے اور خدا کی باتیں لوگوں کو بتاتے رہے۔ انھیں میں سے ایک پیغمبر حضرت موسیٰ علیہ السلام ہیں۔ جن کی لائی ہوئی کتاب اب تک کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے۔ اب جو شخص سنجیدہ ہو اور چیزوں سے سبق لینا جانتا ہو تو وہ حقیقت سے اتنا مانوس ہوگا کہ داعی جب اس کے سامنے حقیقت کا اعلان کرے گا تو فوراً وہ اس کو پہچان لے گا۔ اس کا دل اور اس کا دماغ حق کے حق ہونے پر گواہی دیں گے۔وہ آگے بڑھ کراس کو اس طرح اختیار کرلے گا جیسے وہ اس کے اپنے دل کی آواز ہو۔

مگر اکثر لوگوں کا حال یہ ہوتاہے کہ وہ چیزوں کو بہت زیادہ سنجیدگی کے ساتھ نہیں دیکھتے۔ وہ سطحی تماشوں اور وقتی دلچسپیوں میںپڑ کر اپنا مزاج بگاڑ لیتے ہیں۔ غیر متعلق چیزوں کی مصروفیت انھیں اس کا موقع نہیں دیتی کہ وہ داعی اور اس کی دعوت پر ٹھہر کر سوچیں۔ چنانچہ ان کے سامنے جب حق کی دعوت آتی ہے تو وہ اس کو پہچان نہیں پاتے۔ وہ اپنے بگڑے ہوئے مزاج کی بنا پر اس کے منکر بلکہ مخالف بن جاتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے خدا کی اور خدا کے تخلیقی منصوبہ کی ناقدری کی۔ ان کے لیے آخرت میں جہنم کی آگ کے سوا اور کچھ نہیں۔

انسانی فطرت، زمین وآسمان کے واقعات اور پچھلی آسمانی کتابیں قرآن کے حق ہونے کی گواہی دے رہی ہیں۔ اس کے بعد اگر لوگوں کی اکثریت اس کا انکار کرتی ہے تو اس کی وجہ منکرین کے اندر تلاش کی جائے گی، نہ یہ کہ خود قرآن کے کتاب حق ہونے پر شک کیا جائے۔