تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: هود ١١٧:١١

١١٧:١١
وما كان ربك ليهلك القرى بظلم واهلها مصلحون ١١٧
وَمَا كَانَ رَبُّكَ لِيُهْلِكَ ٱلْقُرَىٰ بِظُلْمٍۢ وَأَهْلُهَا مُصْلِحُونَ ١١٧
وَمَاﳎ
كَانَﳏ
رَبُّكَﳐ
لِيُهۡلِكَﳑ
ٱلۡقُرَىٰﳒ
بِظُلۡمٖﳓ
وَأَهۡلُهَاﳔ
مُصۡلِحُونَﳕ
١١٧ﳖ
وما كان ربك -أيها الرسول- ليهلك قرية من القرى وأهلها مصلحون في الأرض، مجتنبون للفساد والظلم، وإنما يهلكهم بسبب ظلمهم وفسادهم.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 11:116إلى 11:117

یہاں پچھلوں سے مراد پچھلی امتیں بالفاظ دیگر پچھلی مسلم قومیں ہیں۔ قوم کا بگاڑ ہمیشہ اس طرح ہوتاہے کہ دنیوی سامان جو خدا کی طرف سے انھیں اس لیے دیا گیا تھاکہ اس سے ان کے اندر شکر کا جذبہ ابھر ے، وہ ان کے لیے سرمستی اور دنیا پرستی پیدا کرنے کا ذریعہ بن گیا۔

ایسی حالت میں مسلم قوم کی اصلاح کے لیے جو کام کرنا ہے اس کا عنوان شریعت کی اصطلاح میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ہے۔ یہ حکم ایک مسلمان کی اس ذمہ داری کو بتاتا ہے جو اپنے قریبی ماحول کی اصلاح کے سلسلہ میں اس پر عائد ہوتی ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ مسلم معاشرہ میں ہمیشہ ایسے افراد موجود رہنے چاہیے جو مسلمانوں کو خدا اور آخرت کی یاد دلائیں۔ وہ ان کے اخلاق کی نگرانی کریں۔ وہ معاملات میں ان کو راہِ راست پر قائم رکھنے کی کوشش کریں۔

کسی قوم میںایسے اہل ِ خیر کا نہ نکلنا ہمیشہ دو سبب سے ہوتاہے۔ یا تو پوری قوم کی قوم بگڑ چکی ہو اور اس میں کوئی صالح انسان باقی نہ رہا ہو یا صالح افراد موجود تو ہوں مگر عمومی بگاڑ کی وجہ سے وہ زبان کھولنے کی ہمت نہ کرتے ہوں۔ انھیں اندیشہ ہو کہ اگر انھوں نے سچی بات کہی تو قوم کے درمیان وہ بے عزت ہو کر رہ جائیںگے۔

مذکورہ دونوں صورتوں میں قوم خدا کی نظر میں اپنا اعتبار کھو دیتی ہے اور اس کی مستحق ہوجاتی ہے کہ ایک یا دوسری صورت میں وہ عتابِ خداوندی کی زد میں آجائے۔