تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة
٢:٤١
تنزيل من الرحمان الرحيم ٢
تَنزِيلٌۭ مِّنَ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ ٢
تَنزِيلٞ
مِّنَ
ٱلرَّحۡمَٰنِ
ٱلرَّحِيمِ
٢
هذا القرآن الكريم تنزيل من الرحمن الرحيم، نزَّله على نبيه محمد صلى الله عليه وسلم.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 41:1إلى 41:5

پیغمبر کی دعوت بے آمیز دین کی دعوت ہوتی ہے۔ اس کے برعکس لوگوں کا حال یہ ہے کہ اکثر وہ اپنے اکابر کے دین پر ہوتے ہیں۔ ان کے اوپر ان کی قومی روایات اور زمانی افکار کا غلبہ ہوتاہے۔ اس بنا پر پیغمبر کا بے آمیز دین ان کے فکری ڈھانچہ میں نہیں بیٹھتا۔ وہ ان کو اجنبی دکھائی دیتاہے۔ یہ فرق پیغمبر اور لوگوں کے درمیان ایک ذہنی دیوار کی طرح حائل ہوجاتا ہے۔ لوگ پیغمبر کی دعوت کو اس کے اصل روپ میں دیکھ نہیں پاتے۔ اس ليے وہ اس کو ماننے پر بھی تیار نہیں ہوتے۔

پیغمبر کی دعوت بجائے خود انتہائی مدلّل ہوتی ہے۔ وہ اپنی ذات میں اس بات کا ثبوت ہوتی ہے کہ وہ خدا کی طرف سے آئی ہوئی بات ہے ۔ مگر مذکورہ ذہنی دیوار اتنی طاقت ور ثابت ہوتی ہے کہ انسان اس سے نکل کر پیغمبر کی دعوت کو دیکھ نہیں پاتا۔ خدا انسان کےلیے اپنی رحمت کے دروازے کھولتا ہے مگر انسان اس کے اندر داخل نہیں ہوتا۔