تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة
٢٨:٣٥
ومن الناس والدواب والانعام مختلف الوانه كذالك انما يخشى الله من عباده العلماء ان الله عزيز غفور ٢٨
وَمِنَ ٱلنَّاسِ وَٱلدَّوَآبِّ وَٱلْأَنْعَـٰمِ مُخْتَلِفٌ أَلْوَٰنُهُۥ كَذَٰلِكَ ۗ إِنَّمَا يَخْشَى ٱللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ ٱلْعُلَمَـٰٓؤُا۟ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٌ غَفُورٌ ٢٨
وَمِنَ
ٱلنَّاسِ
وَٱلدَّوَآبِّ
وَٱلۡأَنۡعَٰمِ
مُخۡتَلِفٌ
أَلۡوَٰنُهُۥ
كَذَٰلِكَۗ
إِنَّمَا
يَخۡشَى
ٱللَّهَ
مِنۡ
عِبَادِهِ
ٱلۡعُلَمَٰٓؤُاْۗ
إِنَّ
ٱللَّهَ
عَزِيزٌ
غَفُورٌ
٢٨
وخلقنا من الناس والدواب والإبل والبقر والغنم ما هو مختلف ألوانه كذلك، فمن ذلك الأحمر والأبيض والأسود وغير ذلك كاختلاف ألوان الثمار والجبال. إنما يخشى اللهَ ويتقي عقابه بطاعته واجتناب معصيته العلماءُ به سبحانه، وبصفاته، وبشرعه، وقدرته على كل شيء، ومنها اختلاف هذه المخلوقات مع اتحاد سببها، ويتدبرون ما فيها من عظات وعبر. إن الله عزيز قويٌّ لا يغالَب، غفور يثيب أهل الطاعة، ويعفو عنهم.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

آیت 28{ وَمِنَ النَّاسِ وَالدَّوَآبِّ وَالْاَنْعَامِ مُخْتَلِفٌ اَلْوَانُہٗ کَذٰلِکَ } ”اور اسی طرح انسانوں ‘ جانوروں اور چوپایوں کے بھی مختلف رنگ ہیں۔“ { اِنَّمَا یَخْشَی اللّٰہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمٰٓؤُاط اِنَّ اللّٰہَ عَزِیْزٌ غَفُوْرٌ} ”یقینا اللہ سے ڈرتے تو اس کے بندوں میں سے وہی ہیں جو اہل علم ہیں۔ یقینا اللہ بہت زبردست ہے ‘ نہایت بخشنے والا۔“ انسان کے دل میں اگر ایمان موجود ہے تو اس کے اندر لازماً خوفِ خدا بھی ہوگا۔ پھر جس قدر اس کے علم میں اضافہ ہوگا ‘ ارضیات ‘ حیوانات ‘ نباتات وغیرہ سے متعلق اس کی معلومات بڑھیں گی اور کائنات کے دیگر اسرار و رموز کے بارے میں اس کا مطالعہ وسیع ہوتا چلا جائے گا اسی قدر اس کے دل میں اللہ کی عظمت اور خشیت بھی بڑھتی چلی جائے گی۔ لیکن اگر کوئی شخص بنیادی طور پر صاحب ایمان نہیں ہے تو اللہ کی معرفت کے حوالے سے اس کی سماعت و بصارت اور سمجھ بوجھ سب بےکار ہیں۔ اس حوالے سے آج کے سائنسدانوں کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ وہ آئے دن نئے نئے مشاہدات کرتے ہیں ‘ اور کائنات کے عجیب و غریب رازوں سے پردے اٹھاتے ہیں مگر اس ساری تدقیق و تحقیق کے دوران انہیں اللہ کی ذات کہیں نظر نہیں آتی۔ چناچہ اللہ کی عظمت وکبریائی اور حکمت و صناعی کی پہچان صرف وہی دل کرسکتا ہے جس کے اندر ایمان کی روشنی موجود ہے۔ ایسے دل میں اللہ کی معرفت جیسے جیسے بڑھتی جاتی ہے ویسے ویسے اس کی خشیت میں بھی اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔