تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: الطور ٤٧:٥٢

٤٧:٥٢
وان للذين ظلموا عذابا دون ذالك ولاكن اكثرهم لا يعلمون ٤٧
وَإِنَّ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ عَذَابًۭا دُونَ ذَٰلِكَ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ ٤٧
وَإِنَّ
لِلَّذِينَ
ظَلَمُواْ
عَذَابٗا
دُونَ
ذَٰلِكَ
وَلَٰكِنَّ
أَكۡثَرَهُمۡ
لَا
يَعۡلَمُونَ
٤٧
وإن لهؤلاء الظلمة عذابًا يلقونه في الدنيا قبل عذاب يوم القيامة من القتل والسبي وعذاب البرزخ وغير ذلك، ولكن أكثرهم لا يعلمون ذلك.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 52:44إلى 52:47

قدیم مکہ کے لوگوں کا یہ حال کیوں تھا کہ اگر وہ آسمان سے کوئی عذاب کا ٹکڑا گرتے ہوئے دیکھیں تو کہہ دیں کہ یہ بادل ہے۔ اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ وہ خدا کو یا خدائی طاقتوں کو مانتے نہ تھے۔ اس کی اصل وجہ یہ تھی کہ انہیں پیغمبر کے پیغمبر ہونے میں شک تھا۔ انہیں یقین نہ تھا کہ ان کے سامنے بظاہر انہیں جیسا جو ایک شخص ہے اس کا انکار کرنا ایسا جرم ہے کہ اس کی وجہ سے ہلاکت کا پہاڑ گر پڑے گا۔

پیغمبر اسلام کی شخصیت اپنے زمانہ میں لوگوں کے لیے ایک نزاعی شخصیت تھی۔ وہ اس طرح ایک ثابت شدہ شخصیت نہ تھی،جس طرح آج وہ لوگوں کو نظر آتی ہے۔ مگر اس دنیا میں آدمی کا امتحان یہی ہے کہ وہ شبہات کے پردہ کو پھاڑ کر حقیقت کو دیکھے۔ وہ بظاہر ایک نزاعی شخصیت کو ثابت شدہ شخصیت کے روپ میں دریافت کرے۔