تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: الطور ١٥:٥٢

١٥:٥٢
افسحر هاذا ام انتم لا تبصرون ١٥
أَفَسِحْرٌ هَـٰذَآ أَمْ أَنتُمْ لَا تُبْصِرُونَ ١٥
أَفَسِحۡرٌ
هَٰذَآ
أَمۡ
أَنتُمۡ
لَا
تُبۡصِرُونَ
١٥
أفسحر ما تشاهدونه من العذاب أم أنتم لا تنظرون؟ ذوقوا حرَّ هذه النار، فاصبروا على ألمها وشدتها، أو لا تصبروا على ذلك، فلن يُخَفَّف عنكم العذاب، ولن تخرجوا منها، سواء عليكم صبرتم أم لم تصبروا، إنما تُجزون ما كنتم تعملون في الدنيا.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 52:1إلى 52:16

طور صحرائے سینا کا وہ پہاڑ ہے جہاں حضرت موسیٰ کو پیغمبری دی گئی۔ کتاب مسطور سے مراد تورات ہے۔ بیت معمور سے مراد زمین اور سقف مرفوع سے مراد آسمان ہے۔ بحر مسجور سے مراد موجیں مارتا ہوا سمندر ہے۔ یہ چیزیں شاہد ہیں کہ خدا کی پکڑ کا دن یقیناً آنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ یہی خبر پیغمبروں کے ذریعہ دیتا رہا ہے۔ قدیم آسمانی کتابوں میں یہی بات درج ہے۔ زمین و آسمان اپنی خاموش زبان میں اس کا اعلان کر رہے ہیں۔ سمندر کی موجیں ہر سننے والے کو اس کی کہانی سنا رہی ہیں۔

انسان کو اپنے عمل کا نتیجہ بھگتنا ہوگا۔ یہ بات آج پیشگی اطلاع کی صورت میں بتائی جا رہی ہے۔ جو لوگ پیشگی اطلاع سے ہوش میں نہ آئیں ان پر ان کی غفلت اور سرکشی کل کے دن ایک دردناک عذاب کی صورت میں آ پڑے گی اور پھر وہ اس سے بھاگنا چاہیں گے مگر وہ اس سے بھاگ کر کہیں نہ جا سکیں گے۔