تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: التكوير ١٦:٨١

١٦:٨١
الجوار الكنس ١٦
ٱلْجَوَارِ ٱلْكُنَّسِ ١٦
ٱلۡجَوَارِ
ٱلۡكُنَّسِ
١٦
أقسم الله تعالى بالنجوم المختفية أنوارها نهارًا، الجارية والمستترة في أبراجها، والليل إذا أقبل بظلامه، والصبح إذا ظهر ضياؤه، إن القرآن لَتبليغ رسول كريم- هو جبريل عليه السلام-، ذِي قوة في تنفيذ ما يؤمر به، صاحبِ مكانة رفيعة عند الله، تطيعه الملائكة، مؤتمن على الوحي الذي ينزل به.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 81:15إلى 81:16

آیت 15 ‘ 16{ فَلَآ اُقْسِمُ بِالْخُنَّسِ - الْجَوَارِ الْکُنَّسِ۔ } ”تو نہیں ! میں قسم کھاتا ہوں پیچھے ہٹنے والے ‘ چلنے والے اور چھپ جانے والے ستاروں کی۔“ یعنی ایسے ستارے جو سیدھا چلتے چلتے پھر پیچھے ہٹنا شروع ہوجاتے ہیں۔ ان آیات کی وضاحت کرتے ہوئے مولانا شبیر احمد عثمانی رح لکھتے ہیں :”کئی سیاروں مثلاً زحل ‘ مشتری ‘ مریخ ‘ زہرہ ‘ عطارد کی چال اس ڈھب سے ہے کہ کبھی مغرب سے مشرق کو چلیں ‘ یہ سیدھی راہ ہوئی ‘ کبھی ٹھٹک کر الٹے پھریں اور کبھی سورج کے پاس آکر کتنے دنوں تک غائب رہیں۔“بہرحال یہ آیات آج کے ماہرین فلکیات کو دعوت تحقیق دے رہی ہیں کہ وہ جدید معلومات کی روشنی میں ان الفاظ الْخُنَّساور الْجَوَارِ الْکُنَّس کے لغوی معانی کے ساتھ ستاروں کی دنیا کے رموز و حقائق کی مطابقت ڈھونڈنے کی کوشش کریں۔