تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: التغابن ٨:٦٤

٨:٦٤
فامنوا بالله ورسوله والنور الذي انزلنا والله بما تعملون خبير ٨
فَـَٔامِنُوا۟ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ وَٱلنُّورِ ٱلَّذِىٓ أَنزَلْنَا ۚ وَٱللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌۭ ٨
فَـَٔامِنُواْ
بِٱللَّهِ
وَرَسُولِهِۦ
وَٱلنُّورِ
ٱلَّذِيٓ
أَنزَلۡنَاۚ
وَٱللَّهُ
بِمَا
تَعۡمَلُونَ
خَبِيرٞ
٨
فآمنوا بالله ورسوله -أيها المشركون- واهتدوا بالقرآن الذي أنزله على رسوله، والله بما تفعلون خبير لا يخفى عليه شيء من أعمالكم وأقوالكم، وهو مجازيكم عليها يوم القيامة.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

ان تاکیدوں کی روشنی میں ان کو دعوت دی جاتی ہے ، کہ اللہ اور رسول پر ایمان لاﺅ اور اللہ نے رسول پر جو تعلیمات اتاری ہیں ان کو تسلیم کرو ، وہ تو نئی روشنی ہے۔ یہ قرآن دراصل علم کی روشنی ہے ، اور قرآن جو دین و شریعت پیش کرتا ہے ، وہ بھی روشنی ہے۔ یہ تعلیم اپنی حقیقت میں نور ہیں ، کیونکہ یہ اللہ کی طرف سے ہے اور اللہ نور السموات والارض ہے۔ پھر یہ تعلیمات اپنے آثار کے اعتبار سے بھی نور ہیں۔ اور اپنی ذات کے لحاظ سے بھی نور ہیں۔ اس روشنی میں انسان اپنی حقیقت پالیتا ہے اور اس جہاں کے حقائق کو اس کائنات کے حقائق سے دیکھتا ہے۔

دعوت ایمان دینے کے بعد یہ بتایا جاتا ہے کہ ان کا سب کچھ اللہ پر ظاہر ہے۔ اس سے کوئی شے مخفی نہیں رہی۔

بما تعملون خبیر (46 : 8) ” اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے “۔

اس کے باتیا جاتا ہے کہ ذرا دیکھو جس بعث بعد الموت کی تیاری کی تمہیں دعوت دی جاتی ہے۔ وہ کیسی ہوگی ؟