تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: الشعراء ١٣٩:٢٦

١٣٩:٢٦
فكذبوه فاهلكناهم ان في ذالك لاية وما كان اكثرهم مومنين ١٣٩
فَكَذَّبُوهُ فَأَهْلَكْنَـٰهُمْ ۗ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَـَٔايَةًۭ ۖ وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُم مُّؤْمِنِينَ ١٣٩
فَكَذَّبُوهُ
فَأَهۡلَكۡنَٰهُمۡۚ
إِنَّ
فِي
ذَٰلِكَ
لَأٓيَةٗۖ
وَمَا
كَانَ
أَكۡثَرُهُم
مُّؤۡمِنِينَ
١٣٩
فاستمَرُّوا على تكذيبه، فأهلكهم الله بريح باردة شديدة. إن في ذلك الإهلاك لَعبرة لمن بعدهم، وما كان أكثر الذين سمعوا قصتهم مؤمنين بك. وإن ربك لهو العزيز الغالب على ما يريده من إهلاك المكذبين، الرحيم بالمؤمنين.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 26:136إلى 26:140

قوم عاد کا جھوٹا اعتماد اس کے ليے پیغمبر کی بات کو ماننے میں رکاوٹ بن گیا ۔ حتی کہ وہ اس کے پیغام کا مذاق اڑاتی رہی۔ وہ دنیا میں اپنی خوش حالی کو اس بات کی علامت سمجھتی رہی کہ وہ خدا کی انعام یافتہ ہے وہ لوگ اس راز کو نہ سمجھ سکے کہ دنیا کا اثاثہ آدمی کو بطور امتحان ملتاہے، نہ کہ بطور استحقاق۔

جب آخری طور پر ثابت ہوگیا کہ وہ حق کو ماننے والے نہیں ہیں تو خدا نے طوفانی ہوا اور شدید بارش بھیجی جو ایک ہفتہ تک مسلسل اپني تمام خوفناکیوں کے ساتھ رات دن جاری رہی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ پوری قوم اپنے شان دار تمدن سمیت برباد ہو کر رہ گئی۔ اس قوم کا نشان اب صرف وہ ریگستان ہے جو موجودہ عمان اور یمن کے درمیان دور تک پھیلا ہوا ہے۔ قدیم زمانہ میں یہ علاقہ نہایت شاداب اور آباد تھا۔ مگر اب وہاں کسی قسم کی زندگی نہیں پائی جاتی۔