تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: الصافات ٩١:٣٧

٩١:٣٧
فراغ الى الهتهم فقال الا تاكلون ٩١
فَرَاغَ إِلَىٰٓ ءَالِهَتِهِمْ فَقَالَ أَلَا تَأْكُلُونَ ٩١
فَرَاغَ
إِلَىٰٓ
ءَالِهَتِهِمۡ
فَقَالَ
أَلَا
تَأۡكُلُونَ
٩١
فمال مسرعًا إلى أصنام قومه فقال مستهزئًا بها: ألا تأكلون هذا الطعام الذي يقدمه لكم سدنتكم؟ ما لكم لا تنطقون ولا تجيبون مَن يسألكم؟
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

آیت 91{ فَرَاغَ اِلٰٓی اٰلِہَتِہِمْ فَقَالَ اَلَا تَاْکُلُوْنَ } ”پھر وہ چپکے سے ان کے معبودوں میں جا گھسا اور کہنے لگا کہ تم کھاتے کیوں نہیں ؟“ لوگوں کے چلے جانے کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام ان کے مندر میں گھس گئے۔ جشن کے مخصوص موقع کے حوالے سے نذرانوں کے طور پر ُ بتوں کے سامنے لازماً انواع و اقسام کے کھانے سجائے گئے ہوں گے۔ چناچہ یہ منظر دیکھ کر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان سے سوال کیا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ مزے مزے کے کھانے تمہارے سامنے پڑے ہیں مگر آپ لوگ تناول نہیں فرما رہے ؟