تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: الصافات ٧٧:٣٧

٧٧:٣٧
وجعلنا ذريته هم الباقين ٧٧
وَجَعَلْنَا ذُرِّيَّتَهُۥ هُمُ ٱلْبَاقِينَ ٧٧
وَجَعَلۡنَا
ذُرِّيَّتَهُۥ
هُمُ
ٱلۡبَاقِينَ
٧٧
وجعلنا ذرية نوح هم الباقين بعد غرق قومه.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 37:75إلى 37:82

حضرت نوح علیہ السلام کی قوم ان کی دشمن ہوگئی۔ انھوں نے قوم کے مقابلہ میں مدد کےلیے اللہ کو پکارا تو اللہ نے بہترین طورپر آپ کی مدد کی۔ یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ جب اللہ کا ایک بندہ اللہ کو پکارتا ہے تو اللہ کی طرف سے وہ اس کا بہترین جواب پاتاہے۔ مگر اس معاملہ کو سمجھنے کےلیے ضروری ہے کہ اس میں ایک اور بات کو شامل کیا جائے۔ وہ یہ کہ حضرت نوح ساڑھے نو سو سال تک کام کرتے رہے۔ انھوں نے صبر اور حکمت اور خیر خواہی کے تمام آداب کو ملحوظ رکھتے ہوئے قوم کو دعوت دی۔ اس طرح لمبی مدت کے بعد وہ وقت آیا کہ وہ قوم کے خلاف اللہ کو پکاریں اور اللہ اپنی تمام طاقتوں کے ساتھ ان کی مدد پر آجائے۔

حضرت نوح کے مخالفین ایک ہولناک طوفان میں اس طرح ہلاک ہوئے کہ ان کی پوری نسل ختم ہوگئی اس کے بعد دوبارہ جو نسل چلی وہ انھیں چند افراد کے ذریعہ چلی جو حضرت نوح کے ساتھ کشتی میں بچاليے گئے تھے۔