تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: الصافات ١٢٩:٣٧

١٢٩:٣٧
وتركنا عليه في الاخرين ١٢٩
وَتَرَكْنَا عَلَيْهِ فِى ٱلْـَٔاخِرِينَ ١٢٩
وَتَرَكۡنَا
عَلَيۡهِ
فِي
ٱلۡأٓخِرِينَ
١٢٩
وجعلنا لإلياس ثناءً جميلا في الأمم بعده. تحية من الله، وثناءٌ على إلياس. وكما جزينا إلياس الجزاء الحسن على طاعته، نجزي المحسنين من عبادنا المؤمنين. إنه من عباد الله المؤمنين المخلصين له العاملين بأوامره.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 37:123إلى 37:132

حضرت الیاس علیہ السلام غالباً حضرت ہارون علیہ السلام کی نسل سے تھے۔ ان کا زمانہ نویں صدی قبل مسیح ہے۔ اس زمانہ میں اسرائیل (فلسطین) کا یہودی بادشاہ اخی اب (Ahab) اور لبنان میں فنیقی قوم (Phoenicians) کی حکومت تھی جو مشرک تھی اور بعل نامی بت کی پوجا کرتی تھی۔ اخی اب نے مشرک بادشاہ کی لڑکی سے شادی کرلی۔ اس مشرک شہزادی کے اثر سے یہودیوں کے درمیان بعل کی پرستش شروع ہوگئی۔ اس وقت حضرت الیاس نے یہودیوں کو ڈرایا اور ان کو خدائے واحد کی پرستش کی طرف بلایا جو ان کا اصل آبائی دین تھا۔ حضرت الیاس کے حالات تفصیل سے بائبل میں موجود ہیں۔

حضرت الیاس کے زمانہ میں صرف تھوڑے سے یہودیوں نے آپ کا ساتھ دیا۔ بیشتر تعداد نے آپ کی مخالفت کی۔ حتی کہ وہ آپ کے قتل کے درپے ہوگئے۔ اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان پر سزائیں بھیجیں۔ مگر بعد کو یہودیوں کے یہاں حضرت الیاس (ایلیا) کو بہت اونچا مقام ملا۔ اب وہ یہودیوں کی تاریخ میں بہت بڑے نبی شمار کيے جاتے ہیں۔