تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: النصر ٣:١١٠

٣:١١٠
فسبح بحمد ربك واستغفره انه كان توابا ٣
فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَٱسْتَغْفِرْهُ ۚ إِنَّهُۥ كَانَ تَوَّابًۢا ٣
فَسَبِّحۡ
بِحَمۡدِ
رَبِّكَ
وَٱسۡتَغۡفِرۡهُۚ
إِنَّهُۥ
كَانَ
تَوَّابَۢا
٣
إذا وقع ذلك فتهيأ للقاء ربك بالإكثار من التسبيح بحمده والإكثار من استغفاره، إنه كان كثير التوبة على المسبحين والمستغفرين، يتوب عليهم ويرحمهم ويقبل توبتهم.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 110:1إلى 110:3

اللہ کی وہ مدد جس کا نام فتح ہے، وہ ہمیشہ دعوت کی راہ سے آتی ہے۔ لوگوں کو جوق در جوق دین خدا کے دائرے میں داخل کیا جانا، یہی اللہ کی سب سے بڑی مددہے۔ اور اسی راہ سے اہل دین فتح و غلبہ کی منزل تک پہنچتے ہیں۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری زمانہ ( 9-10 ھ) میں وہ حالات پیدا ہوئے جب كہ لوگ بہت بڑی تعداد میں خدا کے دین میں داخل ہوگئے۔ اور اس کے ذریعہ فتوحات کا دروازہ کھل گیا۔

مومن کی فتح اس کے احساس عجز میں اضافہ کرتی ہے۔ وہ اپنے بظاہر صحیح کام پر بھی خدا سے معافی مانگتا ہے۔ وہ بظاہر اپنی کوششوں سے ملنے والی کامیابی کو بھی خدا کے خانہ میں ڈال دیتا ہے۔