تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: النصر ٣:١١٠

٣:١١٠
فسبح بحمد ربك واستغفره انه كان توابا ٣
فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَٱسْتَغْفِرْهُ ۚ إِنَّهُۥ كَانَ تَوَّابًۢا ٣
فَسَبِّحۡ
بِحَمۡدِ
رَبِّكَ
وَٱسۡتَغۡفِرۡهُۚ
إِنَّهُۥ
كَانَ
تَوَّابَۢا
٣
إذا وقع ذلك فتهيأ للقاء ربك بالإكثار من التسبيح بحمده والإكثار من استغفاره، إنه كان كثير التوبة على المسبحين والمستغفرين، يتوب عليهم ويرحمهم ويقبل توبتهم.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 110:3إلى 111:2

آیت 3{ فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ وَاسْتَغْفِرْہُ } ”تو پھر آپ ﷺ اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کیجیے ‘ اور اس سے مغفرت طلب کیجیے۔“ { اِنَّہٗ کَانَ تَوَّابًا۔ } ”یقیناوہ بہت توبہ قبول فرمانے والا ہے۔“ یعنی ابھی تو آپ ﷺ کو دعوت و تبلیغ اور فریضہ رسالت کے سلسلے میں بہت سی مشقتیں اٹھانی ہیں اور جنگ و قتال کے مراحل سے گزرنا ہے ‘ لیکن جب آپ ﷺ اپنے مشن میں کامیاب ہوجائیں یعنی اللہ کا دین غالب ہوجائے تو آپ ﷺ ہمہ وقت ‘ ہمہ تن اپنے رب کی تسبیح وتحمید میں مشغول ہوجایئے گا۔ نوٹ کیجیے ! سورة الانشراح کی آخری آیات میں بھی اسی اسلوب و انداز میں بالکل ایسا ہی حکم دیا گیا ہے۔