تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: النمل ٩٢:٢٧

٩٢:٢٧
وان اتلو القران فمن اهتدى فانما يهتدي لنفسه ومن ضل فقل انما انا من المنذرين ٩٢
وَأَنْ أَتْلُوَا۟ ٱلْقُرْءَانَ ۖ فَمَنِ ٱهْتَدَىٰ فَإِنَّمَا يَهْتَدِى لِنَفْسِهِۦ ۖ وَمَن ضَلَّ فَقُلْ إِنَّمَآ أَنَا۠ مِنَ ٱلْمُنذِرِينَ ٩٢
وَأَنۡ
أَتۡلُوَاْ
ٱلۡقُرۡءَانَۖ
فَمَنِ
ٱهۡتَدَىٰ
فَإِنَّمَا
يَهۡتَدِي
لِنَفۡسِهِۦۖ
وَمَن
ضَلَّ
فَقُلۡ
إِنَّمَآ
أَنَا۠
مِنَ
ٱلۡمُنذِرِينَ
٩٢
قل -أيها الرسول- للناس: إنما أُمرت أن أعبد رب هذه البلدة، وهي "مكة"، الذي حَرَّمها على خلقه أن يسفكوا فيها دمًا حرامًا، أو يظلموا فيها أحدًا، أو يصيدوا صيدها، أو يقطعوا شجرها، وله سبحانه كل شيء، وأُمرت أن أعبده وحده دون مَن سواه، وأُمرت أن أكون من المنقادين لأمره، المبادرين لطاعته، وأن أتلو القرآن على الناس، فمن اهتدى بما فيه واتبع ما جئت به، فإنما خير ذلك وجزاؤه لنفسه، ومن ضلَّ عن الحق فقل -أيها الرسول-: إنما أنا نذير لكم من عذاب الله وعقابه إن لم تؤمنوا، فأنا واحد من الرسل الذين أنذروا قومهم، وليس بيدي من الهداية شيء.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 27:91إلى 27:93

اس شہر (مکہ) کا حوالہ قرآن کے مخاطب اول کی رعایت سے ہے۔ تاہم یہ ایک اسلوب کلام کی بات ہے۔ آیت کا اصل مدعا انسان کو اس ابدی حقیقت کی طرف متوجہ کرنا ہے کہ اُس کے ليے ایک ہی صحیح رویہ ہے۔ اور وہ یہ کہ وہ ایک خدا کا عبادت گزار بنے۔

داعی کا کام ’’سنانا‘‘ ہے، یعنی امر حق کا اعلان۔ آدمی کو داعی کی لفظی پکار میں معنوی حقیقت کا ادراک کرنا ہے۔ بے زور دعوت میں خدائی طاقت کا جلوہ دیکھنا ہے۔ جو لوگ اس صلاحیت کا ثبوت دیں وہی وہ لوگ ہیں جو خدا کے ابدی انعامات کے مستحق قرار دئے جائیں گے۔

’’خدا اپنی نشانیاں دکھائے گا‘‘— اس پیشین گوئی کا ایک پہلو قرآن کے مخاطب اول (قریش مکہ) سے تعلق رکھتا ہے جن کو دور اول میں جنگ بدر اور فتح مکہ کی صورت میں خدا کی نشانیاں دکھائی گئیں۔ اس کا دوسرا پہلو وہ ہے جس کا تعلق قرآن کی ابدیت سے ہے۔ اس دوسرے اعتبار سے موجودہ زمانہ میں ظاہر ہونے والی سائنسی نشانیاں بھی اس غیر معمولی پیشین گوئی کے وسیع تر مصداق میں شامل ہیں۔