تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: النمل ٦٥:٢٧

٦٥:٢٧
قل لا يعلم من في السماوات والارض الغيب الا الله وما يشعرون ايان يبعثون ٦٥
قُل لَّا يَعْلَمُ مَن فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ٱلْغَيْبَ إِلَّا ٱللَّهُ ۚ وَمَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ ٦٥
قُل
لَّا
يَعۡلَمُ
مَن
فِي
ٱلسَّمَٰوَٰتِ
وَٱلۡأَرۡضِ
ٱلۡغَيۡبَ
إِلَّا
ٱللَّهُۚ
وَمَا
يَشۡعُرُونَ
أَيَّانَ
يُبۡعَثُونَ
٦٥
قل -أيها الرسول- لهم: لا يعلم أحد في السموات ولا في الأرض ما استأثر الله بعلمه من المغيَّبات، ولا يدرون متى هم مبعوثون مِن قبورهم عند قيام الساعة؟ بل تكامل علمهم في الآخرة، فأيقنوا بالدار الآخرة، وما فيها مِن أهوال حين عاينوها، وقد كانوا في الدنيا في شك منها، بل عميت عنها بصائرهم.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 27:65إلى 27:66

اسی طرح ایک قوم کا ہٹنا اور دوسری قوم کا اس کی جگہ لینا، سمندری جہاز اور موجودہ زمانہ میں ہوائی جہاز کا امکانات فطرت سے فائدہ اٹھا کر اندھیرے اور اجالے میں سفر کرنا ،سمندر سے بھاپ کا اٹھنا اور پھر بارش بن کر برسنا، چیزوں کو عدم سے وجود میں لانا اور پھر ان کو دوبارہ پیدا کرنا۔ انسان کے لیے وسیع پیمانہ پر ہرقسم کے رزق کا بندوبست کرنا ، یہ سب خدائی سطح کے کام ہیں ۔ اور ایک برتر خدا ہی ان کو انجام دے سکتا ہے ۔ یہی زمین پر ظاہر ہونے والے تمام واقعات کا حال ہے ۔ یہاں ایک واحد واقعہ کو ظہور میں لانے کے لیے بھی اتنے بے شمار عوامل درکار ہوتے ہیں کہ اس کو وہی ہستی ظہور میں لاسکتی ۔ جس کے قبضہ میں ساری کائنات ہو۔ پھر یہ کس قدر بے عقلی کی بات ہے کہ آدمی ایک خدا کے سوا کسی اور کو اپنے جذبات عبودیت کا مرکز بناۓ ۔وہ ایک خدا کے سوا کسی اور کی پرستش کرے۔