تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: النمل ٤٤:٢٧

٤٤:٢٧
قيل لها ادخلي الصرح فلما راته حسبته لجة وكشفت عن ساقيها قال انه صرح ممرد من قوارير قالت رب اني ظلمت نفسي واسلمت مع سليمان لله رب العالمين ٤٤
قِيلَ لَهَا ٱدْخُلِى ٱلصَّرْحَ ۖ فَلَمَّا رَأَتْهُ حَسِبَتْهُ لُجَّةًۭ وَكَشَفَتْ عَن سَاقَيْهَا ۚ قَالَ إِنَّهُۥ صَرْحٌۭ مُّمَرَّدٌۭ مِّن قَوَارِيرَ ۗ قَالَتْ رَبِّ إِنِّى ظَلَمْتُ نَفْسِى وَأَسْلَمْتُ مَعَ سُلَيْمَـٰنَ لِلَّهِ رَبِّ ٱلْعَـٰلَمِينَ ٤٤
قِيلَﳔ
لَهَاﳕ
ٱدۡخُلِيﳖ
ٱلصَّرۡحَۖﳗﳘ
فَلَمَّاﳙ
رَأَتۡهُﳚ
حَسِبَتۡهُﳛ
لُجَّةٗﳜ
وَكَشَفَتۡﳝ
عَنﳞ
سَاقَيۡهَاۚﳟﳠ
قَالَﳡ
إِنَّهُۥﳢ
صَرۡحٞﳣ
مُّمَرَّدٞﳤ
مِّنﳥ
قَوَارِيرَۗﳦﳧ
قَالَتۡﳨ
رَبِّﳩ
إِنِّيﳪ
ظَلَمۡتُﳫ
نَفۡسِيﳬ
وَأَسۡلَمۡتُﳭ
مَعَﳮ
سُلَيۡمَٰنَﳯ
لِلَّهِﳰ
رَبِّﳱ
ٱلۡعَٰلَمِينَﳲ
٤٤ﳳ
قيل لها: ادخلي القصر، وكان صحنه مِن زجاج تحته ماء، فلما رأته ظنته ماء تتردد أمواجه، وكشفت عن ساقيها لتخوض الماء، فقال لها سليمان: إنه صحن أملس من زجاج صاف والماء تحته. فأدركت عظمة ملك سليمان، وقالت: رب إني ظلمت نفسي بما كنت عليه من الشرك، وانقدتُ متابعة لسليمان داخلة في دين رب العالمين أجمعين.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 27:44إلى 27:45

قَالَ اِنَّہٗ صَرْحٌ مُّمَرَّدٌ مِّنْ قَوَارِیْرَ ط ”یعنی وہ شیشے کا چکنا فرش تھا اور ملکہ نے جب اس میں اپنا عکس دیکھاتو اسے پانی سمجھ کر پنڈلیوں سے کپڑا اوپر اٹھا لیا کہ شاید آگے جانے کے لیے اس پانی سے ہو کر گزرنا ہے۔ بہر حال حضرت سلیمان علیہ السلام نے اسے اصل حقیقت سے آگاہ کیا۔ اس سے دراصل اسے احساس دلانا مقصود تھا کہ جو نعمتیں اللہ تعالیٰ نے ہمیں دے رکھی ہیں ‘ وہ تمہارے حاشیہ خیال میں بھی نہیں ہیں۔قَالَتْ رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ وَاَسْلَمْتُ مَعَ سُلَیْمٰنَ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ”حضرت سلیمان علیہ السلام کا واقعہ یہاں پر اختتام پذیر ہوا۔ سورت کا یہ حصہ قصص النبییّن کے انداز میں ہے۔ اس کے بعد حضرت صالح اور حضرت لوط علیہ السلام کے واقعات میں انباء الرسل کا انداز پایا جاتا ہے۔