تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: النجم ٥:٥٣

٥:٥٣
علمه شديد القوى ٥
عَلَّمَهُۥ شَدِيدُ ٱلْقُوَىٰ ٥
عَلَّمَهُۥ
شَدِيدُ
ٱلۡقُوَىٰ
٥
علَّم محمدًا صلى الله عليه وسلم مَلَك شديد القوة، ذو منظر حسن، وهو جبريل عليه السلام، الذي ظهر واستوى على صورته الحقيقية للرسول صلى الله عليه وسلم في الأفق الأعلى، وهو أفق الشمس عند مطلعها، ثم دنا جبريل من الرسول صلى الله عليه وسلم، فزاد في القرب، فكان دنوُّه مقدار قوسين أو أقرب من ذلك. فأوحى الله سبحانه وتعالى إلى عبده محمد صلى الله عليه وسلم ما أوحى بواسطة جبريل عليه السلام. ما كذب قلب محمد صلى الله عليه وسلم ما رآه بصره.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 53:1إلى 53:25

لات اور عزی اور منات قدیم عرب کے بت تھے۔ لات طائف میں تھا۔ عزیٰ مکہ کے قریب نخلہ میں اور منات مدینہ کے قریب قُدَید میں۔ یہ تینوں ان کے عقیدہ کے مطابق خدا کی بیٹیاں تھیں، اور وہ ان کو پوجتے تھے۔ اس قسم کا عقیدہ بلا شبہ ایک بے بنیاد مفروضہ ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ خود اپنی تردید آپ ہے۔ ان مشرکین کا حال یہ تھا کہ وہ بیٹیوں کو اپنے لیے ذلت کی چیز سمجھتے تھے۔ فرمایا کہ غور کرو، خدا جو بیٹا اور بیٹی دونوں کا خالق ہے، وہ اپنے لیے اولاد بناتا تو بیٹیاں بناتا۔

’’کیا انسان وہ سب پا لیتا ہے جو وہ چاہے‘‘ —اس کی تشریح کرتے ہوئے شاہ عبدالقادر دہلوی لکھتے ہیں ’’یعنی بت پوجے سےکیا ملتا ہے، ملے وہ جو اللہ دے‘‘۔