تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: النجم ٢١:٥٣

٢١:٥٣
الكم الذكر وله الانثى ٢١
أَلَكُمُ ٱلذَّكَرُ وَلَهُ ٱلْأُنثَىٰ ٢١
أَلَكُمُ
ٱلذَّكَرُ
وَلَهُ
ٱلۡأُنثَىٰ
٢١
أتجعلون لكم الذَّكر الذي ترضونه، وتجعلون لله بزعمكم الأنثى التي لا ترضونها لأنفسكم؟ تلك إذًا قسمة جائرة. ما هذه الأوثان إلا أسماء ليس لها من أوصاف الكمال شيء، إنما هي أسماء سميتموها أنتم وآباؤكم بمقتضى أهوائكم الباطلة، ما أنزل الله بها مِن حجة تصدق دعواكم فيها. ما يتبع هؤلاء المشركون إلا الظن، وهوى أنفسهم المنحرفة عن الفطرة السليمة، ولقد جاءهم من ربهم على لسان النبي صلى الله عليه وسلم، ما فيه هدايتهم، فما انتفعوا به.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

الکم ............ ضیزی (35 : 22) ” کیا بیٹے تمہارے لئے ہیں اور بیٹیاں خدا کے لئے ہیں۔ یہ تو پھر بڑی دھاندلی کی تقسیم ہوئی “ اس سے یعنی ان بتوں کے تعجب خیز ذکر کے بعد یہ تنقید بتائی ہے کہ یہ تینوں بت دراصل فرشتوں کے ناموں کے رمز تھے جن کو وہ اللہ کی بیٹیاں سمجھتے تھے۔ ان کی حالت اپنے ہاں یہ تھی کہ وہ اپنے گھروں میں بیٹیوں کی ولادت کو سخت مکروہ سمجھتے تھے لیکن اللہ کی طرف بیٹیوں کی نسبت کرنے میں شرم محسوس نہ کرتے تھے حالانکہ وہ فرشتوں کے بارے میں کچھ زیادہ نہ جانتے تھے اور نہ معلومات تھیں ان کو جن کی بنا پر وہ یوں کہتے ہوں۔

اللہ تعالیٰ خود ان کے تصورات اور ان کے افسانوی عقائد کی رو سے ان پر تنقید فرماتا ہے بلکہ ان کا تمسخر اڑاتا ہے کہ کیا خوب کہی۔

الکم ............ الانثیٰ (35 : 12) ” کیا بیٹے تمہارے لئے اور بیٹیاں خدا کے لئے “ یہ تقسیم تو غیر منصفانہ ہے۔ اپنے حصہ تم نے کیا رکھا ہے اور اللہ کا حصہ کیا رکھا ہے۔