تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة
١٠:٣
ان الذين كفروا لن تغني عنهم اموالهم ولا اولادهم من الله شييا واولايك هم وقود النار ١٠
إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لَن تُغْنِىَ عَنْهُمْ أَمْوَٰلُهُمْ وَلَآ أَوْلَـٰدُهُم مِّنَ ٱللَّهِ شَيْـًۭٔا ۖ وَأُو۟لَـٰٓئِكَ هُمْ وَقُودُ ٱلنَّارِ ١٠
إِنَّ
ٱلَّذِينَ
كَفَرُواْ
لَن
تُغۡنِيَ
عَنۡهُمۡ
أَمۡوَٰلُهُمۡ
وَلَآ
أَوۡلَٰدُهُم
مِّنَ
ٱللَّهِ
شَيۡـٔٗاۖ
وَأُوْلَٰٓئِكَ
هُمۡ
وَقُودُ
ٱلنَّارِ
١٠
إن الذين جحدوا الدين الحق وأنكروه، لن تنفعهم أموالهم ولا أولادهم من عذاب الله شيئًا إن وقع بهم في الدنيا، ولن تدفعه عنهم في الآخرة، وهؤلاء هم حطب النار يوم القيامة.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

آیت 10 اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَنْ تُغْنِیَ عَنْہُمْ اَمْوَالُہُمْ وَلَآ اَوْلاَدُہُمْ مِّنَ اللّٰہِ شَیْءًا ط اب یہ ذرا تحدی اور چیلنج کا انداز ہے۔ زمانۂ نزول کے اعتبار سے آپ نے نوٹ کرلیا کہ یہ سورة مبارکہ 3 ھ میں غزوۂ احد کے بعد نازل ہورہی ہے ‘ لیکن یہ رکوع جو زیر مطالعہ ہے اس کے بارے میں گمان غالب ہے کہ یہ غزوۂ بدر کے بعد نازل ہوا۔ غزوۂ بدر میں مسلمانوں کو بڑی زبردست فتح حاصل ہوئی تھی تو مسلمانوں کا morale بہت بلند تھا۔ لیکن ایسی روایات بھی ملتی ہیں کہ جب مسلمان بدر سے غازی بن کر ‘ فتح یاب ہو کر واپس آئے تو مدینہ منورہ میں جو یہودی قبیلے تھے ان میں سے بعض لوگوں نے کہا کہ مسلمانو ! اتنا نہ اتراؤ۔ یہ تو قریش کے کچھ ناتجربہ کار چھوکرے تھے جن سے تمہارا مقابلہ پیش آیا ہے ‘ اگر کبھی ہم سے مقابلہ پیش آیا تو دن میں تارے نظر آجائیں گے ‘ وغیرہ وغیرہ۔ تو اس پس منظر میں یہ الفاظ کہے جا رہے ہیں کہ صرف مشرکین مکہ پر موقوف نہیں ‘ آخر کار تمام کفار اسی طرح سے زیر ہوں گے اور اللہ کا دین غالب ہو کر رہے گا۔ وَاللّٰہُ غَالِبٌ عَلٰی اَمْرِہٖ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ یوسف