تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: القيامة ٨:٧٥

٨:٧٥
وخسف القمر ٨
وَخَسَفَ ٱلْقَمَرُ ٨
وَخَسَفَ
ٱلۡقَمَرُ
٨
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 75:1إلى 75:19

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اترتی تو آپ اس کو لینے میں جلدی فرماتے۔ اس سے آپ کو منع کردیا گیا۔ اس سلسلہ میں مزید فرمایا کہ قرآن کا جو حصہ اتر چکا ہے اور جو تم کو مخاطب بنا رہا ہے، اس پر ساری توجہ صرف کرو، نہ کہ قرآن کے اس بقیہ حصہ پر جو ابھی اترا نہیں اور جس نے ابھی تم کو مخاطب نہیں بنایا۔ اس سے یہ معلوم ہوا کہ جس وقت جس حصۂ قرآن کا ایک شخص مکلف ہے اسی پر اس کو سب سے زیادہ توجہ دینا چاہیے۔ جس حصۂ قرآن کا ایک شخص مکلف ہے اسی پر اس کو سب سے زیادہ توجہ دینا چاہیے۔ جس حصۂ قرآن کا ایک شخص مکلف نہ ہو اس کے پیچھے دوڑنا ’’عجلت‘‘ ہے جو قرآنی حکمت کے سراسر خلاف ہے۔