تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: القيامة ١٤:٧٥

١٤:٧٥
بل الانسان على نفسه بصيرة ١٤
بَلِ ٱلْإِنسَـٰنُ عَلَىٰ نَفْسِهِۦ بَصِيرَةٌۭ ١٤
بَلِ
ٱلۡإِنسَٰنُ
عَلَىٰ
نَفۡسِهِۦ
بَصِيرَةٞ
١٤
بل الإنسان حجة واضحة على نفسه تلزمه بما فعل أو ترك، ولو جاء بكل معذرة يعتذر بها عن إجرامه، فإنه لا ينفعه ذلك.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 75:14إلى 75:15

بل الانسان ................ معاذیرہ (75:15) ” بلکہ انسان خود ہی اپنے آپ کو خوب جانتا ہے چاہے وہ کتنی ہی معذرتیں پیش کرے “۔ یہاں یہ بات نوٹ کیے جانے کے قابل ہے کہ اس سورة میں ہر چیز نہایت تیز رفتاری سے چل رہی ہے۔ فقرے ، قافئے ، موسیقی اور ترنم ، مناظر اور چمک دمک ، اسی طرح حساب و کتاب بھی سرعت سے ہوگا۔ مقدم اور موخر سب کچھ سامنے ہوگا اور یہ اس لئے کہ وہ ایان سے سوال کرکے قیامت کو بہت دور اور بہت ناممکن سمجھتے تھے۔