تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: الممتحنة ١١:٦٠

١١:٦٠
وان فاتكم شيء من ازواجكم الى الكفار فعاقبتم فاتوا الذين ذهبت ازواجهم مثل ما انفقوا واتقوا الله الذي انتم به مومنون ١١
وَإِن فَاتَكُمْ شَىْءٌۭ مِّنْ أَزْوَٰجِكُمْ إِلَى ٱلْكُفَّارِ فَعَاقَبْتُمْ فَـَٔاتُوا۟ ٱلَّذِينَ ذَهَبَتْ أَزْوَٰجُهُم مِّثْلَ مَآ أَنفَقُوا۟ ۚ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ ٱلَّذِىٓ أَنتُم بِهِۦ مُؤْمِنُونَ ١١
وَإِن
فَاتَكُمۡ
شَيۡءٞ
مِّنۡ
أَزۡوَٰجِكُمۡ
إِلَى
ٱلۡكُفَّارِ
فَعَاقَبۡتُمۡ
فَـَٔاتُواْ
ٱلَّذِينَ
ذَهَبَتۡ
أَزۡوَٰجُهُم
مِّثۡلَ
مَآ
أَنفَقُواْۚ
وَٱتَّقُواْ
ٱللَّهَ
ٱلَّذِيٓ
أَنتُم
بِهِۦ
مُؤۡمِنُونَ
١١
وإن لحقت بعض زوجاتكم مرتدات إلى الكفار، ولم يعطكم الكفار مهورهن التي دفعتموها لهن، ثم ظَفِرتم بهؤلاء الكفار أو غيرهم وانتصرتم عليهم، فأعطوا الذين ذهبت أزواجهم من المسلمين من الغنائم أو غيرها مثل ما أعطوهن من المهور قبل ذلك، وخافوا الله الذي أنتم به مؤمنون.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

آیت 1 1{ وَاِنْ فَاتَـکُمْ شَیْئٌ مِّنْ اَزْوَاجِکُمْ اِلَی الْکُفَّارِ } ”اور اگر تمہاری بیویوں کے مہر میں سے کچھ کفار کی طرف رہ جائے“ اس صورت حال کو سمجھنے کے لیے فرض کریں کہ ایک مسلمان مرد ہجرت کر کے مدینہ آگیا اور اس کی مشرکہ بیوی مکہ میں ہی رہ گئی۔ بعد میں اس مسلمان نے اس خاتون کو پیغام بھجوایا کہ میرا تمہارا تعلق زوجیت ختم ہوچکا ہے لہٰذا تم مہر کی رقم مجھے لوٹا دو۔ اب اگر اس عورت نے مہر کی رقم واپس نہیں کی تو اس مسئلے کا حل بتایا جا رہا ہے کہ ایسی صورت میں تمہیں کیا کرنا ہے۔ { فَعَاقَـبْتُمْ فَاٰتُوا الَّذِیْنَ ذَہَبَتْ اَزْوَاجُہُمْ مِّثْلَ مَآ اَنْفَقُوْاط } ”تو جب تمہیں موقع ہاتھ آجائے تو جن لوگوں کی بیویاں جاتی رہی ہیں انہیں اتنی رقم ادا کر دو جتنی انہوں نے خرچ کی ہے۔“ اگر کسی جنگ سے تمہیں کچھ مال غنیمت ملے تو اس میں سے ان لوگوں کو تلافی کے طور پر کچھ مال دے دو جن کی بیویاں ایمان نہ لانے کی وجہ سے ان کی زوجیت میں نہیں رہیں اور وہ انہیں مہر کی رقوم بھی لوٹانے کو تیار نہیں ‘ تاکہ اس رقم سے مہر ادا کر کے وہ لوگ مکہ سے ہجرت کر کے آنے والی ان خواتین سے نکاح کرسکیں جن کے مشرک خاوند مکہ میں رہ گئے ہیں۔ { وَاتَّقُوا اللّٰہَ الَّذِیْٓ اَنْتُمْ بِہٖ مُؤْمِنُوْنَ۔ } ”اور اس اللہ کا تقویٰ اختیار کرو جس پر تمہارا ایمان ہے۔“