تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: المدثر ٣٩:٧٤

٣٩:٧٤
الا اصحاب اليمين ٣٩
إِلَّآ أَصْحَـٰبَ ٱلْيَمِينِ ٣٩
إِلَّآ
أَصۡحَٰبَ
ٱلۡيَمِينِ
٣٩
كل نفس بما كسبت من أعمال الشر والسوء محبوسة مرهونة بكسبها، لا تُفَكُّ حتى تؤدي ما عليها من الحقوق والعقوبات، إلا المسلمين المخلصين أصحاب اليمين الذين فكُّوا رقابهم بالطاعة، هم في جنات لا يُدْرَك وصفها، يسأل بعضهم بعضًا عن الكافرين الذين أجرموا في حق أنفسهم: ما الذي أدخلكم جهنم، وجعلكم تذوقون سعيرها؟ قال المجرمون: لم نكن من المصلِّين في الدنيا، ولم نكن نتصدق ونحسن للفقراء والمساكين، وكنا نتحدث بالباطل مع أهل الغَواية والضلالة، وكنا نكذب بيوم الحساب والجزاء، حتى جاءنا الموت، ونحن في تلك الضلالات والمنكرات.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 74:39إلى 74:41

اصحاب الیمین کی رہائی اور قیدوبند سے ان کے چھوٹ جانے کا واقعہ کیونکر پیش آیا کہ اللہ نے اپنے فضل وکرم سے ان کی نیکیوں کو دوگنا کردیا اور ایسے مشکل حالات میں ان کی رہائی اور کامیابی کا اعلان دلوں کو گرما دیتا ہے اور انسان اللہ کی رحمتوں کے یقین سے سرشار ہوجاتا ہے۔ اسی طرح اس بات کا اثر مجرموں اور تکذیب کرنے والوں پر بھی ہوتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو سخت ترین حالات میں محصور پاتے ہیں۔ نہایت ہی اہانت آمیزی کے ساتھ وہ اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہیں۔ اور ایک طویل بیان ریکارڈ کراتے ہیں ، جبکہ وہ اہل ایمان جن کو وہ اس دنیا میں کچھ چیز ہی نہ سمجھتے تھے اور ان کو ذرہ برابر اہمیت بھی نہ دیتے تھے ، وہ اب عزت و تکریم کی بلندیوں پر ہیں۔ اور وہ ان سے اس انداز میں سوال کرتے ہیں جس طرح کوئی نہایت ہی شکست خوردہ شخص سے کرتا ہے۔ ذرا سوال دیکھیں :