تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: الكهف ٩٣:١٨

٩٣:١٨
حتى اذا بلغ بين السدين وجد من دونهما قوما لا يكادون يفقهون قولا ٩٣
حَتَّىٰٓ إِذَا بَلَغَ بَيْنَ ٱلسَّدَّيْنِ وَجَدَ مِن دُونِهِمَا قَوْمًۭا لَّا يَكَادُونَ يَفْقَهُونَ قَوْلًۭا ٩٣
حَتَّىٰٓ
إِذَا
بَلَغَ
بَيۡنَ
ٱلسَّدَّيۡنِ
وَجَدَ
مِن
دُونِهِمَا
قَوۡمٗا
لَّا
يَكَادُونَ
يَفۡقَهُونَ
قَوۡلٗا
٩٣
حتى إذا وصل إلى ما بين الجبلين الحاجزين لما وراءهما، وجد من دونهما قومًا، لا يكادون يعرفون كلام غيرهم.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

آیت 93 حَتّٰٓي اِذَا بَلَغَ بَيْنَ السَّدَّيْنِ ”سد“ دیوار کو کہتے ہیں۔ دو دیواروں سے مراد یہاں دو پہاڑی سلسلے ہیں۔ داہنی طرف مشرق میں بحیرۂ کیسپین تھا اور دوسری طرف بحیرۂ اسود۔ ان دونوں سمندروں کے ساحلوں کے ساتھ ساتھ دو پہاڑی سلسلے متوازی چلتے ہیں۔ اور ان پہاڑی سلسلوں کی درمیانی گزر گاہ سے شمالی علاقوں کے وحشی قبائل یاجوج ماجوج اس علاقے پر حملہ آور ہوتے تھے۔وَجَدَ مِنْ دُوْنِهِمَا قَوْمًا ۙ لَّا يَكَادُوْنَ يَفْقَهُوْنَ قَوْلًاگویا یہ بھی ایک غیر متمدن قوم تھی۔ اس قوم کے افراد ذوالقرنین اور ان کے ساتھیوں کی زبان سے قطعاً ناآشنا تھے اور حملہ آور لشکر کے لوگ بھی اس مفتوحہ قوم کی زبان نہیں سمجھ سکتے تھے۔ مگر پھر بھی انہوں نے کسی نہ کسی طرح سے ذوالقرنین کے سامنے اپنا مدعا بیان کر ہی دیا :