تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

تفسير Tazkir ul Quran: سورة الجمعة، الآية 10

١٠:٦٢
فاذا قضيت الصلاة فانتشروا في الارض وابتغوا من فضل الله واذكروا الله كثيرا لعلكم تفلحون ١٠
فَإِذَا قُضِيَتِ ٱلصَّلَوٰةُ فَٱنتَشِرُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ وَٱبْتَغُوا۟ مِن فَضْلِ ٱللَّهِ وَٱذْكُرُوا۟ ٱللَّهَ كَثِيرًۭا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ١٠
فَإِذَاﱘ
قُضِيَتِﱙ
ٱلصَّلَوٰةُﱚ
فَٱنتَشِرُواْﱛ
فِيﱜ
ٱلۡأَرۡضِﱝ
وَٱبۡتَغُواْﱞ
مِنﱟ
فَضۡلِﱠ
ٱللَّهِﱡ
وَٱذۡكُرُواْﱢ
ٱللَّهَﱣ
كَثِيرٗاﱤ
لَّعَلَّكُمۡﱥ
تُفۡلِحُونَﱦ
١٠ﱧ
فإذا سمعتم الخطبة، وأدَّيتم الصلاة، فانتشروا في الأرض، واطلبوا من رزق الله بسعيكم، واذكروا الله كثيرًا في جميع أحوالكم؛ لعلكم تفوزون بخيري الدنيا والآخرة.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 62:9إلى 63:3

یہ کسی آدمی کے نفاق کی علامت ہے کہ وہ بڑی بڑی باتیں کرے۔ اور قسم کھا کر اپنی بات کا یقین دلائے۔ مخلص آدمی اللہ کے خوف سے دبا ہوا ہوتا ہے۔ وہ زبان سے زیادہ دل سے بولتا ہے۔ منافق آدمی صرف انسان کو اپنی آواز سنانے کا مشتاق ہوتا ہے، اور مخلص آدمی خدا کو سنانے کا۔

جب ایک شخص ایمان لاتا ہے تو وہ ایک سنجیدہ عہد کرتا ہے۔ اس کے بعد زندگی کے عملی مواقع آتے ہیں، جہاں ضرورت ہوتی ہے کہ وہ اس عہد کے مطابق عمل کرے۔ اب جو شخص ایسے مواقع پر اپنے دل کی آواز کو سن کر عہد کے تقاضے پورے کرے گا۔ اس نے اپنے عہد ایمان کو پختہ کیا۔ اس کے برعکس، جس کا یہ حال ہو کہ اس کے دل نے آوازدی مگر اس نے دل کی آواز کو نظر انداز کرکے عہد کے خلاف عمل کیا تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ دھیرے دھیرے اپنے عہد ایمان کے معاملہ میں بے حس ہوجائے گا— یہی مطلب ہے دل پر مہر کرنےكا۔