تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: الجاثية ٣١:٤٥

٣١:٤٥
واما الذين كفروا افلم تكن اياتي تتلى عليكم فاستكبرتم وكنتم قوما مجرمين ٣١
وَأَمَّا ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓا۟ أَفَلَمْ تَكُنْ ءَايَـٰتِى تُتْلَىٰ عَلَيْكُمْ فَٱسْتَكْبَرْتُمْ وَكُنتُمْ قَوْمًۭا مُّجْرِمِينَ ٣١
وَأَمَّا
ٱلَّذِينَ
كَفَرُوٓاْ
أَفَلَمۡ
تَكُنۡ
ءَايَٰتِي
تُتۡلَىٰ
عَلَيۡكُمۡ
فَٱسۡتَكۡبَرۡتُمۡ
وَكُنتُمۡ
قَوۡمٗا
مُّجۡرِمِينَ
٣١
وأما الذين جحدوا أن الله هو الإله الحق وكذَّبوا رسله ولم يعملوا بشرعه، فيقال لهم -تقريعًا وتوبيخًا-: أفلم تكن آياتي في الدنيا تتلى عليكم، فاستكبرتم عن استماعها والإيمان بها، وكنتم قومًا مشركين تكسِبون المعاصي ولا تؤمنون بثواب ولا عقاب؟
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

آیت 31 { وَاَمَّا الَّذِیْنَ کَفَرُوْا } ”اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا تھا“ { اَفَلَمْ تَکُنْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰی عَلَیْکُمْ } ”ان سے اللہ پوچھے گا کہ کیا تمہیں میری آیات پڑھ کر نہیں سنائی جاتی تھیں ؟“ اس آیت میں اگرچہ کفار کا ذکر ہے ‘ لیکن اس مفہوم کی آیات کے حوالے سے یہ اہم نکتہ مدنظر رہے کہ ہم بھی جب قرآن سنتے ہیں تو اپنے اور پڑھ کر سنانے والے کے بارے میں اس جملے کا مفہوم ضرور یاد رکھنا چاہیے۔ اسی طرح ان سطور کو پڑھنے والے ہر قاری کے ذہن میں بھی یہ تصور ضرور ہونا چاہیے کہ قرآن کا پیغام اس تک پہنچ گیا ہے اور وہ اس کے بارے میں ضرور مسئول ہوگا۔ { فَاسْتَکْبَرْتُمْ وَکُنْتُمْ قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ } ”تو تم نے استکبار کیا اور تم مجرم لوگ تھے۔“ ہماری آیات کے آگے سر جھکانے اور ہمارے احکام کو تسلیم کرنے کے بجائے تم نے استکبار کا رویہ اپنا یا ‘ اس لحاظ سے واقعی تم بہت بڑے مجرم تھے۔