تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: الإسراء ٧١:١٧

٧١:١٧
يوم ندعو كل اناس بامامهم فمن اوتي كتابه بيمينه فاولايك يقرءون كتابهم ولا يظلمون فتيلا ٧١
يَوْمَ نَدْعُوا۟ كُلَّ أُنَاسٍۭ بِإِمَـٰمِهِمْ ۖ فَمَنْ أُوتِىَ كِتَـٰبَهُۥ بِيَمِينِهِۦ فَأُو۟لَـٰٓئِكَ يَقْرَءُونَ كِتَـٰبَهُمْ وَلَا يُظْلَمُونَ فَتِيلًۭا ٧١
يَوۡمَ
نَدۡعُواْ
كُلَّ
أُنَاسِۭ
بِإِمَٰمِهِمۡۖ
فَمَنۡ
أُوتِيَ
كِتَٰبَهُۥ
بِيَمِينِهِۦ
فَأُوْلَٰٓئِكَ
يَقۡرَءُونَ
كِتَٰبَهُمۡ
وَلَا
يُظۡلَمُونَ
فَتِيلٗا
٧١
اذكر -أيها الرسول- يوم البعث مبشرًا ومخوفًا، حين يدعو الله عز وجل كل جماعة من الناس مع إمامهم الذي كانوا يقتدون به في الدنيا، فمن كان منهم صالحًا، وأُعطي كتاب أعماله بيمينه، فهؤلاء يقرؤون كتاب حسناتهم فرحين مستبشرين، ولا يُنْقَصون من ثواب أعمالهم الصالحة شيئًا، وإن كان مقدارَ الخيط الذي يكون في شَقِّ النواة.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 17:71إلى 17:72

یہ ایک نیا منظر ہے ، مناظر قیامت میں سے۔ تمام لوگ میدان میں حشر میں ہوں گے۔ ہر جماعت کو اس کے نام و عنوان اور اس کے امام کے ساتھ پکارا جائے گا۔ اگر کسی کا کوئی نبی ہوگا تو وہ ان کا امام ہوگا۔ یا دنیا میں اگر ان کا کوئی پیشوا اور مقتداء ہوگا تو اس کے ساتھ۔ امام کے سامنے ان کو ان کا نامہ اعمال تھمایا جائے گا۔ دائیں ہاتھ ، جن کو اعمال نامے دئیے جا رہے ہیں وہ ان کو خوشی خوشی سے پرھ رہے ہیں۔ وہ دیکھ رہے ہیں کہ ان کے اعمال کا پورا پورا اجر ان کو مل رہا ہے۔ ایک فقیل (وہ دھاگہ جو گٹھلی کے درمیان ہوتا ہے) کے برابر بھی ان پر ظلم نہ ہوگا۔ جس شخص نے اس دنیا میں دلائل ہدایت کے دیکھنے میں اندھے پن کا ثبوت دیا ، وہ وہاں بھی اندھا ہوگا اور اپنے اعمال نامے میں کوء خیر و ہدایت نہ دیکھ سکے گا۔ اور جزاء پھر معلو ہے کیا ہوگی ؟ سیاق کلام کے اس منظر کو اس طرح بتاتا ہے کہ جس طرح وہ شخص قیامت میں اندھا ہوگا۔ ادھر ادھر ٹامک ٹوئیاں مار رہا ہوگا۔ کوئی ہاتھ پکڑ کر اسے راہ راست پر لے جانے والا نہ ہوگا۔ نہ کوئی ایسا ذریعہ ہوگا۔ جس کی وجہ سے وہ راہ معلوم کرسکے۔ بس اس شخص کو اس منظر میں یوں ہی چھوڑ دیا جاتا ہے کہ وہ ادھر ادھر پھر رہا ہے۔ آگے قاری پر چھوڑ دیا ہے کہ وہ خود سوچ لے کہ ایسے شخص کا انجام کیا ہوا یا ہوگا ؟