تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: الانسان ٢٤:٧٦

٢٤:٧٦
فاصبر لحكم ربك ولا تطع منهم اثما او كفورا ٢٤
فَٱصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَلَا تُطِعْ مِنْهُمْ ءَاثِمًا أَوْ كَفُورًۭا ٢٤
فَٱصۡبِرۡ
لِحُكۡمِ
رَبِّكَ
وَلَا
تُطِعۡ
مِنۡهُمۡ
ءَاثِمًا
أَوۡ
كَفُورٗا
٢٤
فاصبر لحكم ربك القدري واقبله، ولحكمه الديني فامض عليه، ولا تطع من المشركين من كان منغمسًا في الشهوات أو مبالغًا في الكفر والضلال، وداوم على ذكر اسم ربك ودعائه في أول النهار وآخره.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 76:24إلى 76:25

آیت 24{ فَاصْبِرْ لِحُکْمِ رَبِّکَ } ”تو آپ انتظار کیجیے اپنے رب کے حکم کا“ ربط ِمضمون کے اعتبار سے یوں سمجھئے کہ ان آیات کا تعلق سورة القیامہ کی ان آیات سے ہے : { لَا تُحَرِّکْ بِہٖ لِسَانَکَ لِتَعْجَلَ بِہٖ - اِنَّ عَلَیْنَا جَمْعَہٗ وَقُرْاٰنَہٗ۔ } ”آپ ﷺ اس قرآن کے ساتھ اپنی زبان کو تیزی سے حرکت نہ دیں۔ اسے جمع کرنا اور پڑھوا دینا ہمارے ذمہ ہے“۔ یعنی ہم نے قرآن مجید کو بطرز تنزیل تھوڑا تھوڑا کر کے ہی نازل کرنا ہے ‘ ہماری مشیت اسی میں ہے۔ ہمارا ہر حکم اور ہر فیصلہ اسی وقت پر نازل ہوگا جو وقت ہم نے اس کے نزول کے لیے طے کر رکھا ہے۔ چناچہ آپ ﷺ کو نہ صرف نزول قرآن کے حوالے سے صبر کرنا ہے بلکہ مخالفت کا سامنا کرتے ہوئے بھی آپ ﷺ کو اپنے رب کے احکام کا منتظر رہنا ہے۔ { وَلَا تُطِعْ مِنْہُمْ اٰثِمًا اَوْ کَفُوْرًا۔ } ”اور آپ ﷺ ان میں سے کسی گناہگار یا ناشکرے کی باتوں پر دھیان نہ دیجیے۔“