تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: البقرة ٣:٢

٣:٢
الذين يومنون بالغيب ويقيمون الصلاة ومما رزقناهم ينفقون ٣
ٱلَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِٱلْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ ٱلصَّلَوٰةَ وَمِمَّا رَزَقْنَـٰهُمْ يُنفِقُونَ ٣
ٱلَّذِينَ
يُؤۡمِنُونَ
بِٱلۡغَيۡبِ
وَيُقِيمُونَ
ٱلصَّلَوٰةَ
وَمِمَّا
رَزَقۡنَٰهُمۡ
يُنفِقُونَ
٣
وهم الذين يُصَدِّقون بالغيب الذي لا تدركه حواسُّهم ولا عقولهم وحدها; لأنه لا يُعْرف إلا بوحي الله إلى رسله، مثل الإيمان بالملائكة، والجنة، والنار، وغير ذلك مما أخبر الله به أو أخبر به رسوله صلى الله عليه وسلم، (والإيمان: كلمة جامعة للإقرار بالله وملائكته وكتبه ورسله واليوم الآخر والقدر خيره وشره، وتصديق الإقرار بالقول والعمل بالقلب واللسان والجوارح) وهم مع تصديقهم بالغيب يحافظون على أداء الصلاة في مواقيتها أداءً صحيحًا وَفْق ما شرع الله لنبيه محمد صلى الله عليه وسلم، ومما أعطيناهم من المال يخرجون صدقة أموالهم الواجبة والمستحبة.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 2:1إلى 2:5

اس میں شک نہیں کہ قرآن ہدایت کی کتاب ہے۔ مگر وہ ہدایت کی کتاب اس کے لیے ہے جو فی الواقع ہدایت کو جاننے کے معاملہ میں سنجیدہ ہو، جو اس کی پروا اور کھٹک رکھتا ہو۔ سچی طلب جو فطرت کی زمین پر اگتی ہے وہ خود پانے ہی کا ایک آغاز ہوتا ہے۔ سچی طلب اور سچی یافت دونوں ایک ہی سفر کے پچھلے اور اگلے مرحلے ہیں۔ یہ گویا خود اپنی فطرت کے بند صفحات کو کھولناہے۔ جب آدمی اس کا سچا ارادہ کرتا ہے تو فوراً فطرت کي مطابقت اور اللہ کی نصرت اس کا ساتھ دینے لگتی ہے، اس کو اپنی فطرت کی مبہم پکار کا متعین جواب ملنا شروع ہوجاتاہے۔

ایک آدمی کے اندر سچی طلب کا جاگنا عالَم ظاہر کے پیچھے عالم باطن کو دیکھنے کی کوشش کرنا ہے۔ یہ تلاش جب یافت کے مرحلہ میں پہنچتی ہے تو وہ ایمان بالغیب بن جاتی ہے۔ وہی چیز جو ابتدائی مرحلہ میںایک برتر حقیقت کے آگے اپنے کو ڈال دینے کی بے قراری کا نام ہوتا ہے وہ بعد کے مرحلہ میںاللہ کا نمازی بننے کی صورت میں ڈھل جاتي ہے۔ وہی جذبہ جو ابتداء ًاپنے کو خیر اعلیٰ کے لیے وقف کردینے کے ہم معنی ہوتا ہے، وہ بعد کے مرحلہ میں اللہ کی راہ میںاپنے اثاثہ کو خرچ کرنے کی صورت اختیار کرلیتا ہے۔ وہی کھوج جو زندگی کے ہنگاموں کے آگے اس کا آخری انجام معلوم کرنے کی صورت میں کسی کے اندر ابھرتی ہے وہ آخرت پر یقین کی صورت میں اپنے سوال کا جواب پالیتی ہے۔

سچائی کو پانا گویا اپنے شعو ر کو حقیقت اعلیٰ کے ہم سطح کرلینا ہے۔ جو لوگ، اس طرح حق کو پالیں وہ ہر قسم کی نفسیاتی گرہوں سے آزاد ہوجاتے ہیں۔ وہ سچائی کو اس کے بے آمیز روپ میں دیکھنے لگتے ہیں۔ اس لیے سچائی جہاں بھی ہو اور جس بندۂ خدا کی زبان سے اس کا اعلان کیا جارہا ہو وہ فوراً اس کو پہچان لیتے ہیں اور اس پر لبیک کہتے ہیں۔ کوئی جمود، کوئی تقلید اور کوئی تعصباتی دیوار ان کے لیے اعترافِ حق میں رکاوٹ نہیں بنتی۔ جن لوگوں کے اندریہ خصوصیات ہوں وہ اللہ کے سایہ میں آجاتے ہیں۔ اللہ کا بنایا ہوا نظام ان کو قبول کرلیتا ہے ان کو دنیا میں اس سچے راستہ پر چلنے کی توفیق مل جاتی ہے جس کی آخری منزل یہ ہے کہ آدمی آخرت کی ابدی نعمتوں میں داخل ہوجائے۔

حق کو وہی پاسکتا ہے جو اس کا ڈھونڈھنے والا ہے اور جو ڈھونڈنے والا ہے وہ ضرور اس کو پاتا ہے۔ یہاں ڈھونڈنے اور پانے کے درمیان کوئی فاصلہ نہیں۔