تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: البقرة ٣:٢

٣:٢
الذين يومنون بالغيب ويقيمون الصلاة ومما رزقناهم ينفقون ٣
ٱلَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِٱلْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ ٱلصَّلَوٰةَ وَمِمَّا رَزَقْنَـٰهُمْ يُنفِقُونَ ٣
ٱلَّذِينَ
يُؤۡمِنُونَ
بِٱلۡغَيۡبِ
وَيُقِيمُونَ
ٱلصَّلَوٰةَ
وَمِمَّا
رَزَقۡنَٰهُمۡ
يُنفِقُونَ
٣
وهم الذين يُصَدِّقون بالغيب الذي لا تدركه حواسُّهم ولا عقولهم وحدها; لأنه لا يُعْرف إلا بوحي الله إلى رسله، مثل الإيمان بالملائكة، والجنة، والنار، وغير ذلك مما أخبر الله به أو أخبر به رسوله صلى الله عليه وسلم، (والإيمان: كلمة جامعة للإقرار بالله وملائكته وكتبه ورسله واليوم الآخر والقدر خيره وشره، وتصديق الإقرار بالقول والعمل بالقلب واللسان والجوارح) وهم مع تصديقهم بالغيب يحافظون على أداء الصلاة في مواقيتها أداءً صحيحًا وَفْق ما شرع الله لنبيه محمد صلى الله عليه وسلم، ومما أعطيناهم من المال يخرجون صدقة أموالهم الواجبة والمستحبة.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

آیت 3 الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بالْغَیْبِ ”یہ متقین کے اوصاف میں سے پہلا وصف ہے۔ وہ یہ نہیں سمجھتے کہ بس جو کچھ ہماری آنکھوں سے نظر آ رہا ہے ‘ حواس خمسہ کی زد میں ہے بس وہی کل حقیقت ہے۔ نہیں ! اصل حقیقت تو ہمارے حواس کی سرحدوں سے بہت پرے واقع ہوئی ہے۔ہدایت قرآنی کا نقطۂ آغاز یہ ہے کہ انسان یہ سمجھ لے کہ جو اصل حقیقت ہے وہ اس کی نگاہوں سے مستور ہے۔ انگلستان کے بہت بڑے فلسفی بریڈلے Bradley کی کتاب کا عنوان ہے : ”Appearance and Reality“۔ اس نے لکھا ہے کہ جو کچھ نظر آ رہا ہے یہ حقیقت نہیں ہے ‘ حقیقت اس کے پیچھے ہے ‘ کنفیوشس 551 تا 479 ق م چین کا بہت بڑا حکیم اور فلسفی تھا ‘ اس کی تعلیمات میں اخلاقی رنگ بہت نمایاں ہے۔ اس کا ایک جملہ ہے :There is nothing more real than what can not be seen ; and there is nothing more certain than what can not be heard.یعنی وہ حقائق جو آنکھوں سے دیکھے نہیں جاسکتے اور کانوں سے سنے نہیں جاسکتے ان سے زیادہ یقینی اور واقعی حقائق کوئی اور نہیں ہیں۔ وَیُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ ”اللہ کے ساتھ اپنا ایک ذہنی و قلبی اور روحانی رشتہ استوار کرنے کے لیے نماز قائم کرتے ہیں۔ وَمِمَّا رَزَقْنٰھُمْ یُنْفِقُوْنَ ’ یعنی خیر میں ‘ بھلائی میں ‘ نیکی میں ‘ لوگوں کی تکالیف دور کرنے میں اور اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے ‘ اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی کے لیے اپنا مال خرچ کرتے ہیں۔