تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: البقرة ١٩٩:٢

١٩٩:٢
ثم افيضوا من حيث افاض الناس واستغفروا الله ان الله غفور رحيم ١٩٩
ثُمَّ أَفِيضُوا۟ مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ ٱلنَّاسُ وَٱسْتَغْفِرُوا۟ ٱللَّهَ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ ١٩٩
ثُمَّ
أَفِيضُواْ
مِنۡ
حَيۡثُ
أَفَاضَ
ٱلنَّاسُ
وَٱسۡتَغۡفِرُواْ
ٱللَّهَۚ
إِنَّ
ٱللَّهَ
غَفُورٞ
رَّحِيمٞ
١٩٩
وليكن اندفاعكم من «عرفات» التي أفاض منها إبراهيم عليه السلام مخالفين بذلك من لا يقف بها من أهل الجاهلية، واسألوا الله أن يغفر لكم ذنوبكم. إن الله غفور لعباده المستغفرين التائبين، رحيم بهم.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

آیت 199 ثُمَّ اَفِیْضُوْا مِنْ حَیْثُ اَفَاض النَّاسُ زمانۂ جاہلیت میں قریش مکہّ عرفات تک نہ جاتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری خاص حیثیت ہے ‘ لہٰذا ہم منیٰ ہی میں مقیم رہیں گے ‘ باہر سے آنے والے لوگ عرفات جائیں اور وہاں سے طواف کے لیے واپس لوٹیں ‘ یہ سارے مناسک ہمارے لیے نہیں ہیں۔ یہاں فرمایا گیا کہ یہ ایک غلط بات ہے جو تم نے ایجاد کرلی ہے۔ تم بھی وہیں سے طواف کے لیے واپس لوٹو جہاں سے دوسرے لوگ لوٹتے ہیں ‘ یعنی عرفات سے۔وَاسْتَغْفِرُوا اللّٰہَ ط۔ اپنی اگلی تقصیر پر نادم ہو اور اللہ سے اپنے گناہوں کی مغفرت چاہو۔