تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: الأنعام ٨٤:٦

٨٤:٦
ووهبنا له اسحاق ويعقوب كلا هدينا ونوحا هدينا من قبل ومن ذريته داوود وسليمان وايوب ويوسف وموسى وهارون وكذالك نجزي المحسنين ٨٤
وَوَهَبْنَا لَهُۥٓ إِسْحَـٰقَ وَيَعْقُوبَ ۚ كُلًّا هَدَيْنَا ۚ وَنُوحًا هَدَيْنَا مِن قَبْلُ ۖ وَمِن ذُرِّيَّتِهِۦ دَاوُۥدَ وَسُلَيْمَـٰنَ وَأَيُّوبَ وَيُوسُفَ وَمُوسَىٰ وَهَـٰرُونَ ۚ وَكَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلْمُحْسِنِينَ ٨٤
وَوَهَبۡنَاﱞ
لَهُۥٓﱟ
إِسۡحَٰقَﱠ
وَيَعۡقُوبَۚﱡﱢ
كُلًّاﱣ
هَدَيۡنَاۚﱤﱥ
وَنُوحًاﱦ
هَدَيۡنَاﱧ
مِنﱨ
قَبۡلُۖﱩﱪ
وَمِنﱫ
ذُرِّيَّتِهِۦﱬ
دَاوُۥدَﱭ
وَسُلَيۡمَٰنَﱮ
وَأَيُّوبَﱯ
وَيُوسُفَﱰ
وَمُوسَىٰﱱ
وَهَٰرُونَۚﱲﱳ
وَكَذَٰلِكَﱴ
نَجۡزِيﱵ
ٱلۡمُحۡسِنِينَﱶ
٨٤ﱷ
ومننَّا على إبراهيم عليه السلام بأن رزقناه إسحاق ابنًا ويعقوب حفيدًا، ووفَّقنا كلا منهما لسبيل الرشاد، وكذلك وفَّقنا للحق نوحًا -من قبل إبراهيم وإسحاق ويعقوب- وكذلك وفَّقنا للحق من ذرية نوح داود وسليمان وأيوب ويوسف وموسى وهارون عليهم السلام، وكما جزينا هؤلاء الأنبياء بإحسانهم نجزي كل محسن.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 6:84إلى 6:90

’’فضیلت‘‘ کسی کانسلی یا قومی لقب نہیں۔ یہ اللہ کا ایک عطیہ ہے جس کا تحقّق صرف ان افراد کے لیے ہوتا ہے جو ہدایت کے مطابق اپنے کو صالح بنائیں، شرک کی تمام قسموں سے اپنے کو بچائیں اور ’’بلامعاوضہ نصیحت‘‘ کے دعوتی منصوبہ میں اپنے کو ہمہ تن شامل کریں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو خدا کی کتاب کو اپنا حقیقی رہنما بناتے ہیں۔ وہ اس کے ساتھ اپنے وجود کو اتنا زیادہ شامل کرلیتے ہیں کہ ان پر اس راہ کے وہ بھید کھلنے لگتے ہیں جن کو حکمت کہا جاتاہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کو خدا چن لیتاہے اور ان میں سے جن کو چاہتا ہے اپنے دین کی پیغام رسانی کی توفیق دیتاہے، دور نبوت میں اللہ کے خصوصی پیغمبر کی حیثیت سے اور ختم نبوت کے بعد اللہ کے عام داعی کی حیثیت سے۔ اللہ کا انعام خواہ وہ پیغمبروں کے لیے ہو یا عام انسانوں کے لیے، تمام تر نیک عملی (احسان) کی بنیاد پر ملتاہے، نہ کہ کسی اور بنیاد پر۔

دعوتِ حق کا کام صرف وہ لوگ کرتے ہیں جو اس کی خاطر اتنا زیادہ یکسو اور بے نفس ہوچکے ہوں کہ وہ مدعو سے کسی قسم کی مادی توقع نہ رکھیں۔ جس شخص یا گروہ تک آپ آخرت کا پیغام پہنچا رہے ہوں اسی سے آپ اپنے دنیوی حقوق کے لیے احتجاج اور مطالبات کی مہم نهيں چلا سکتے ہیں۔ داعی کا ایسا کرنا صرف اس قیمت پر ہوگا کہ اس کی دعوت مدعو کی نظر میں مضحکہ خیز بن کر رہ جائے اور ماحول کے اندر کبھی اس کو سنجیدہ مہم کی حیثیت حاصل نہ ہو۔

مکہ میں کچھ لوگ آپ پر ایمان لائے۔ مگر بحیثیت ’’قوم‘‘ مکہ والوں نے آپ کا انکارکردیا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مدینہ والوں کے دل آپ کی دعوت کے حق میں نرم کرديے اور وہ بحیثیت قوم آپ کے مومن بن گئے۔ حتی کہ آپ کے لیے یہ ممکن ہوگیا کہ آپ مکہ سے مدینہ جاکر وہاں اسلام کا مرکز قائم کرسکیں۔ اللہ تعالیٰ کی یہ مدد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کامل درجہ میں حاصل ہوئی۔ تاہم آپ کی امت میں اٹھنے والے داعیوں کو بھی اللہ یہ مدد دے سکتا ہے اور اپنی مصلحت کے مطابق دیتا رہا ہے۔