تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: الأنعام ١٦٢:٦

١٦٢:٦
قل ان صلاتي ونسكي ومحياي ومماتي لله رب العالمين ١٦٢
قُلْ إِنَّ صَلَاتِى وَنُسُكِى وَمَحْيَاىَ وَمَمَاتِى لِلَّهِ رَبِّ ٱلْعَـٰلَمِينَ ١٦٢
قُلۡ
إِنَّ
صَلَاتِي
وَنُسُكِي
وَمَحۡيَايَ
وَمَمَاتِي
لِلَّهِ
رَبِّ
ٱلۡعَٰلَمِينَ
١٦٢
قل -أيها الرسول- لهؤلاء المشركين: إن صلاتي، ونسكي، أي: ذبحي لله وحده، لا للأصنام، ولا للأموات، ولا للجن، ولا لغير ذلك مما تذبحونه لغير الله، وعلى غير اسمه كما تفعلون، وحياتي وموتي لله تعالى رب العالمين.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 6:162إلى 6:163

آیت 162 قُلْ اِنَّ صَلاَتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ یہاں دوبارہ قل کہہ کر حضور ﷺ کو مخاطب فرمایا گیا ہے اور آپ ﷺ ہی کو یہ اعلان کرنے کے لیے کہا جارہا ہے ‘ لیکن آپ ﷺ کی وساطت سے ہم میں سے ہر ایک کو یہ حکم پہنچ رہا ہے۔ کاش ہم میں سے ہر ایک یہ اعلان کرنے کے قابل ہو سکے کہ میری نماز ‘ میری قربانی ‘ میرا جینا اور میرا مرنا اللہ کے لیے ہے جو رب العالمین ہے۔ لیکن یہ تب ممکن ہے جب ہم اپنی زندگی واقعۃً اللہ کے لیے وقف کردیں۔ دنیوی زندگی کی کم از کم ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ناگزیر حد تک اپنا وقت اور اپنی صلاحیتیں ضرور صرف کریں ‘ لیکن اس ساری تگ و دَو کو اصل مقصود زندگی نہ سمجھیں ‘ بلکہ اصل مقصود زندگی اللہ کی اطاعت اور اقامت دین کی جدوجہد ہی کو سمجھیں۔