تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: الأنعام ١٥:٦

١٥:٦
قل اني اخاف ان عصيت ربي عذاب يوم عظيم ١٥
قُلْ إِنِّىٓ أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّى عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍۢ ١٥
قُلۡﲩ
إِنِّيٓﲪ
أَخَافُﲫ
إِنۡﲬ
عَصَيۡتُﲭ
رَبِّيﲮ
عَذَابَﲯ
يَوۡمٍﲰ
عَظِيمٖﲱ
١٥ﲲ
قل -أيها الرسول- لهؤلاء المشركين مع الله غيره: إني أخاف إن عصيت ربي، فخالفت أمره، وأشركت معه غيره في عبادته، أن ينزل بي عذاب عظيم يوم القيامة.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

آیت 15 قُلْ اِنِّیْٓ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ۔ میں بھی اللہ کی عبادت سے مستثنیٰ نہیں ہوں ‘ میں بھی اللہ کا بندہ ہوں۔ جیسے میں آپ لوگوں سے کہہ رہا ہوں کہ اللہ کی بندگی کرو ‘ ویسے ہی مجھے بھی حکم ہے ‘ مجھے بھی اللہ کی بندگی کرنی ہے۔ جیسے میں تم سے کہہ رہا ہوں کہ اللہ کی فرمانبرداری کرو ‘ ویسے ہی مجھے بھی اس کی فرمانبرداری کرنی ہے۔ اور جیسے میں تمہیں بتارہا ہوں کہ اگر اللہ کی نافرمانی گرو گے تو پکڑے جاؤ گے ‘ ایسے ہی میں بھی اگر بالفرض نافرمانی کروں گا تو مجھے بھی اللہ کے عذاب کا اندیشہ ہے۔ یہ بہت اہم آیات ہیں ‘ ان پر بہت غور وفکر کرنے کی ضرورت ہے۔