تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: الأحقاف ٣٣:٤٦

٣٣:٤٦
اولم يروا ان الله الذي خلق السماوات والارض ولم يعي بخلقهن بقادر على ان يحيي الموتى بلى انه على كل شيء قدير ٣٣
أَوَلَمْ يَرَوْا۟ أَنَّ ٱللَّهَ ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ وَلَمْ يَعْىَ بِخَلْقِهِنَّ بِقَـٰدِرٍ عَلَىٰٓ أَن يُحْـِۧىَ ٱلْمَوْتَىٰ ۚ بَلَىٰٓ إِنَّهُۥ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ قَدِيرٌۭ ٣٣
أَوَلَمۡﲌ
يَرَوۡاْﲍ
أَنَّﲎ
ٱللَّهَﲏ
ٱلَّذِيﲐ
خَلَقَﲑ
ٱلسَّمَٰوَٰتِﲒ
وَٱلۡأَرۡضَﲓ
وَلَمۡﲔ
يَعۡيَﲕ
بِخَلۡقِهِنَّﲖ
بِقَٰدِرٍﲗ
عَلَىٰٓﲘ
أَنﲙ
يُحۡـِۧيَﲚ
ٱلۡمَوۡتَىٰۚﲛﲜ
بَلَىٰٓۚﲝﲞ
إِنَّهُۥﲟ
عَلَىٰﲠ
كُلِّﲡ
شَيۡءٖﲢ
قَدِيرٞﲣ
٣٣ﲤ
أغَفَلوا ولم يعلموا أنَّ الله الذي خلق السموات والأرض على غير مثال سبق، ولم يعجز عن خلقهن، قادر على إحياء الموتى الذين خلقهم أوّلا؟ بلى، ذلك أمر يسير على الله تعالى الذي لا يعجزه شيء، إنه على كل شيء قدير.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

آیت 33 { اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰہَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَلَمْ یَعْیَ بِخَلْقِہِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰٓی اَنْ یُّحْیِیََ الْمَوْتٰی } ”کیا انہوں نے غور نہیں کیا کہ وہ اللہ جس نے آسمانوں اور زمین کی تخلیق فرمائی اور ان کی تخلیق سے تھکا نہیں ‘ وہ اس پر قادر ہے کہ ُ مردوں کو زندہ کر دے !“ یہ عقلی دلیل ہے اس شخص کے لیے جو اللہ کو ”خالق“ تو مانتا ہے مگر بعث بعد الموت پر یقین نہیں رکھتا۔ سورة قٓکی آیت 15 میں بھی ایسے ”فلسفیوں“ سے سوال کیا گیا ہے : { اَفَعَیِیْنَا بِالْخَلْقِ الْاَوَّلِ } کہ کیا ہم کائنات اور اس کی مخلوقات کو ایک دفعہ تخلیق کرنے کے بعد تھک گئے ہیں ؟ کیا اب ہماری تخلیقی سرگرمیاں معطل ہوگئی ہیں ؟ اور کیا مزید نئی چیزیں بنانے کی ہماری صلاحیت اب ختم ہو کر رہ گئی ہے ؟ { بَلٰٓی اِنَّہٗ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ } ”کیوں نہیں ‘ یقینا وہ ہرچیز پر قادر ہے۔“