تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة
١١١:٩
۞ ان الله اشترى من المومنين انفسهم واموالهم بان لهم الجنة يقاتلون في سبيل الله فيقتلون ويقتلون وعدا عليه حقا في التوراة والانجيل والقران ومن اوفى بعهده من الله فاستبشروا ببيعكم الذي بايعتم به وذالك هو الفوز العظيم ١١١
۞ إِنَّ ٱللَّهَ ٱشْتَرَىٰ مِنَ ٱلْمُؤْمِنِينَ أَنفُسَهُمْ وَأَمْوَٰلَهُم بِأَنَّ لَهُمُ ٱلْجَنَّةَ ۚ يُقَـٰتِلُونَ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ فَيَقْتُلُونَ وَيُقْتَلُونَ ۖ وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّۭا فِى ٱلتَّوْرَىٰةِ وَٱلْإِنجِيلِ وَٱلْقُرْءَانِ ۚ وَمَنْ أَوْفَىٰ بِعَهْدِهِۦ مِنَ ٱللَّهِ ۚ فَٱسْتَبْشِرُوا۟ بِبَيْعِكُمُ ٱلَّذِى بَايَعْتُم بِهِۦ ۚ وَذَٰلِكَ هُوَ ٱلْفَوْزُ ٱلْعَظِيمُ ١١١
۞ إِنَّ
ٱللَّهَ
ٱشۡتَرَىٰ
مِنَ
ٱلۡمُؤۡمِنِينَ
أَنفُسَهُمۡ
وَأَمۡوَٰلَهُم
بِأَنَّ
لَهُمُ
ٱلۡجَنَّةَۚ
يُقَٰتِلُونَ
فِي
سَبِيلِ
ٱللَّهِ
فَيَقۡتُلُونَ
وَيُقۡتَلُونَۖ
وَعۡدًا
عَلَيۡهِ
حَقّٗا
فِي
ٱلتَّوۡرَىٰةِ
وَٱلۡإِنجِيلِ
وَٱلۡقُرۡءَانِۚ
وَمَنۡ
أَوۡفَىٰ
بِعَهۡدِهِۦ
مِنَ
ٱللَّهِۚ
فَٱسۡتَبۡشِرُواْ
بِبَيۡعِكُمُ
ٱلَّذِي
بَايَعۡتُم
بِهِۦۚ
وَذَٰلِكَ
هُوَ
ٱلۡفَوۡزُ
ٱلۡعَظِيمُ
١١١
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

ان اللہ اشتری من المؤمنین انفسھم واموالھم بان لھم الجنۃ بلاشبہ اللہ نے مؤمنوں سے ان کی جانیں اور مال (اس وعدہ پر) خرید لئے ہیں کہ ان کیلئے (اس کے عوض) جنت ہے۔ جان و مال خرچ کرنے کے عوض عطائے جنت کو اللہ نے خرید وفروخت قرار دیا۔ اہل سیر نے لکھا ہے کہ سب سے پہلے جس نے رسول اللہ (ﷺ) کے دست مبارک پر اپنا ہاتھ مارا ‘ وہ براء بن معرور یا ابوالہثیم یا اسعد تھے اور یہ شرط کی کہ جس (مصیبت) سے وہ اپنے اہل و عیال کی حفاظت کریں گے ‘ اس سے رسول اللہ (ﷺ) کی بھی حفاظت کریں گے اور ہر گورے کالے (یعنی تمام انسانوں) کے مقابل آپ کی حمایت کریں گے۔ سب سے پہلے قتال و جہاد کے بارے میں یہی آیت نازل ہوئی ‘ اس کے بعد اُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقَاتَلُوْنَ الخ۔

جب گھاٹی کی رات کو ان حضرات کی یہ بیعت ختم ہوگئی اور کفار قریش سے چھپا کر یہ بیعت ہوئی تھی تو اس کے بعد رسول اللہ نے اپنے ساتھیوں کو مکہ چھوڑ کر مدینہ کو چلے جانے کا حکم دے دیا اور خود مکہ میں ٹھہر کر (ا اللہ کی طرف سے) اجازت ملنے کا انتظار کرتے رہے۔

تیسری گھاٹی کی بیعت سے ایک سال پہلے حضرت ابو سلمہ بن عبدالاسد جو حبشہ سے آئے تھے اور مکہ والوں نے ان کو بڑی تکلیفیں دی تھیں ‘ جب ان کو انصار کے مسلمان ہوجانے کی اطلاع ملی تو مدینہ کو ہجرت کر گئے۔ آپ کا نمبر مدنی مہاجرین میں سب سے پہلا تھا ‘ پھر حضرت عامر بن ربیعہ اور ان کی بیوی لیلیٰ نے ہجرت کی ‘ پھر حضرت عبد اللہ بن حجش نے ‘ پھر پے در پے دوسرے مسلمانوں نے ‘ پھر حضرت عمر بن خطاب اور آپ کے بھائی زید نے اور بیس سواروں کے ساتھ عباس بن ربیعہ نے۔ ان سب نے (مدینہ میں پہنچ کر) حوالی مدینہ میں پڑاؤ کیا۔ پھر حضرت عثمان بن عفان نے ہجرت کی۔ حضرت ابوبکر صدیق نے بارہا حضور (ﷺ) سے ہجرت کی درخواست کی مگر حضور (ﷺ) فرماتے رہے : جلدی نہ کرو ‘ شاید اللہ کسی کو تمہارا ساتھی کر دے۔ خیال یہ تھا کہ شاید رسول اللہ (ﷺ) بھی ان کے ساتھ ہی ہجرت کریں۔ اس کے بعد چوپال میں قریش کا اجتماع ہوا (اور رسول اللہ (ﷺ) کو شہید کردینے کی انہوں نے خفیہ سازش کی) سورة الانفال میں قریش کی سازش کا اور رسول اللہ (ﷺ) کے ہجرت کرنے کا بیان آچکا ہے ‘ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت مکی ہے۔

یقاتلون فی سبیل اللہ فیقتلون ویقتلون وہ لوگ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں جس میں قتل کرتے ہیں اور قتل کئے جاتے ہیں۔ یہ کلام ابتدائی ہے ‘ اس میں خریدنے کی غرض کا اظہار کیا گیا ہے۔ بعض اہل تفسیر نے کہا کہ یقاتلون (اگرچہ مضارع کا صیغہ ہے مگر) امر کے معنی میں ہے (یعنی لڑو ‘ مارو اور مارے جاؤ) ۔

وعدا علیہ حقًا اللہ نے (اس) خرید پر (جنت دینے کا) سچا پکا وعدہ کرلیا ہے۔ علیہ کی ضمیر شرائ کی طرف لوٹ رہی ہے اور وعدًا فعل محذوف کا مفعول مطلق (برائے تاکید) ہے۔ حقًّا ‘ وعدًاکی صفت ہے یا یہ بھی فعل محذوف کا مفعول مطلق ہے۔

فی التورٰۃ والانجیل والقران توریت اور انجیل اور قرآن میں۔ توریت و انجیل میں وعدہ کرنے کی صراحت بتا رہی ہے کہ یہودیوں اور عیسائیوں کو بھی جہاد پر مامور کیا گیا تھا اور اس کے بدلہ میں ان سے جنت کا وعدہ کیا گیا تھا۔

ومن اوفٰی بعھدہ من اللہ اور اللہ سے بڑھ کر اپنے وعدہ کو پورا کرنے والا اور کون ہے ؟ (استفہام انکاری ہے)

یعنی کوئی نہیں ہے۔ وعدہ کی خلاف ورزی بری ہے اور اللہ سے اس کا صدور ناممکن ہے۔ وعدہ کی وفا کرم ہے اور اللہ سے بڑھ کر کوئی کریم نہیں۔ نفی کو بصورت استفہام ذکر کرنے میں پرزور طور پر وفائے عہد کا اظہار کیا ہے اور تاکیدی طرز کلام کے ساتھ وعدۂ الٰہی کے حق ہونے کی صراحت ہے۔

فاستبشروا ببیعکم الذی بالعتم بہ پس تم لوگ اپنی اس بیع پر جس کا تم نے اللہ سے معاملہ ٹھہرایا ہے ‘ خوشی مناؤ۔

پس تم خوب خوش ہوجاؤ ‘ خوشیاں مناؤ۔ یہ جہاد کرنے والے مؤمنوں کو خطاب ہے۔ پہلے ان کا ذکر غائبانہ تھا ‘ اب مخاطب بنایا گیا۔ بشارت کی وجہ یہ ہے کہ زوال پذیر ‘ حقیر چیز کو دے کر انہوں نے لازوال ‘ اعلیٰ نعمت کو لے لیا۔ اس سے بڑھ کر فائدہ کا سودا اور کیا ہو سکتا ہے۔

حضرت عمر نے فرمایا : اللہ نے تجھ سے خریدو فروخت کی اور دونوں سودوں کا فائدہ تیرے ہی لئے کردیا۔ قتادہ نے کہا : اللہ نے ان کو قیمت دی اور بہت زیادہ دی۔ حسن نے کہا : سنو فائدہ رساں تجارت کا پیام جس میں اللہ نے ہر مؤمن کے ساتھ خریدو فروخت کر کے اس کو فائدہ پہنچایا ہے۔ یہ بھی حسن بصری کا قول ہے کہ اللہ نے تجھے دنیا عطا کی ‘ تو کچھ دنیا دے کر جنت خرید لے۔

وذلک ھو الفوز العظیم۔ اور یہ (فروخت) ہی بڑی کامیابی ہے جس کا حصول انتہائی مقصد ہے۔

حافظ على صلتك بالقرآن الكريم ❤️

تذكيرات قصيرة وهادفة لإعادة ضبط النفس والتدبر والبقاء على تواصل مع القرآن الكريم.

اقرأ واستمع وابحث وتدبر في القرآن الكريم

Quran.com منصة موثوقة يستخدمها ملايين الأشخاص حول العالم لقراءة القرآن الكريم والبحث فيه والاستماع إليه والتدبر فيه بعدة لغات. كما يوفر الموقع ترجمات وتفسيرات وتلاوات وترجمة كلمة بكلمة وأدوات للدراسة العميقة، مما يجعل القرآن الكريم في متناول الجميع.

كصدقة جارية، يكرّس Quran.com جهوده لمساعدة الناس على التواصل العميق مع القرآن الكريم. بدعم من Quran.Foundation، وهي منظمة غير ربحية 501(c)(3)، يواصل Quran.com في التقدم و النمو كمصدر مجاني وقيم للجميع، الحمد لله.

تصفّح
الصفحة الرئيسة
راديو القرآن الكريم
القرّاء
معلومات عنا
المطورون
تحديثات المنتج
الملاحظات
مساعدة
تبرع
مشاريعنا
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Quran.AI
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
المشاريع غير الربحية التي تملكها أو تديرها أو ترعاها Quran.Foundation
الروابط الأكثر شيوعًا

آية الكرسي

يس

الملك

الرّحمن

الواقعة

الكهف

المزّمّل

خريطة الموقـعالخصوصيةالشروط والأحكام
© ٢٠٢٦ Quran.com. كل الحقوق محفوظة
ساهم