تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: الغاشية ٨:٨٨

٨:٨٨
وجوه يوميذ ناعمة ٨
وُجُوهٌۭ يَوْمَئِذٍۢ نَّاعِمَةٌۭ ٨
وُجُوهٞ
يَوۡمَئِذٖ
نَّاعِمَةٞ
٨
وجوه المؤمنين يوم القيامة ذات نعمة؛ لسعيها في الدنيا بالطاعات راضية في الآخرة، في جنة رفيعة المكان والمكانة، لا تسمع فيها كلمة لغو واحدة، فيها عين تتدفق مياهها، فيها سرر عالية، وأكواب معدة للشاربين، ووسائد مصفوفة، الواحدة جنب الأخرى، وبُسُط كثيرة مفروشة.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 88:8إلى 88:9

وجوہ یومئذ ........................................ مبثوثة

اہل جنت کے چہروں سے معلوم ہوگا کہ یہ کھاتے پیتے لوگ ہیں۔ وہ رضائے الٰہی کی وجہ سے بےحد مطمئن ہوں گے۔ نعمتوں میں بس رہے ہوں گے۔ ان کے اعمال کو پسندیدگی کی نظر سے دیکھا جائے گا ، تعریف کی جائے گی اور انعامات پائیں گے۔ اس کے علاوہ ان کو بلند روحانی شعور حاصل ہوگا کہ اللہ ان کے اعمال سے راضی ہے۔ اور ان کو نظرآئے گا کہ اللہ راضی ہے۔ اس سے زیادہ روحانی سکون کسی کو نہیں مل سکتا کہ کوئی بھلائی کے کاموں پر مطمئن ہوجائے ، اور اس کا انجام اچھا ہو ، اور پھر وہ دیکھے گا کہ اس کا مالک اس سے راضی ہے اور جنتوں میں داخل ہوجائے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم رضائے الٰہی اور روحانی خوشی کا ذکر جنتوں کی مادی نعمتوں سے پہلے کرتا ہے اور اس کے بعد جنتوں میں ان کے مقامات کا ذکر کیا جاتا ہے۔