تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: البروج ١٧:٨٥

١٧:٨٥
هل اتاك حديث الجنود ١٧
هَلْ أَتَىٰكَ حَدِيثُ ٱلْجُنُودِ ١٧
هَلۡ
أَتَىٰكَ
حَدِيثُ
ٱلۡجُنُودِ
١٧
هل بلغك -أيها الرسول- خبر الجموع الكافرة المكذبة لأنبيائها، فرعون وثمود، وما حلَّ بهم من العذاب والنكال، لم يعتبر القوم بذلك، بل الذين كفروا في تكذيب متواصل كدأب مَن قبلهم، والله قد أحاط بهم علما وقدرة، لا يخفى عليه منهم ومن أعمالهم شيء. وليس القرآن كما زعم المكذبون المشركون بأنه شعر وسحر، فكذَّبوا به، بل هو قرآن عظيم كريم، في لوح محفوظ، لا يناله تبديل ولا تحريف.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 85:17إلى 85:18

یہ دو طویل قصوں کی طرف اشارہ ہے ، اس لئے فرعون اور قوم ثمود کی باتیں مخاطبین کو معلوم تھیں۔ قرآن کریم نے دونوں قصوں کو بار بار بیان کیا ہے۔ یہاں ان کو جنود اس لئے کہا گیا کہ وہ بہت ہی طاقتور تھے۔ مطلب یہ ہے کہ کیا تمہیں معلوم ہے کہ ان کا قصہ کیا ہے اور تمہارے رب نے ان کے ساتھ کیا کیا تھا ؟ اللہ تو جو چاہے کر گزرتا ہے۔

فرعون اور ثمود دونوں کے قصے اپنی نوعیت اور نتائج کے اعتبار سے مختلف تھے۔ فرعون کو تو اللہ نے معہ اپنے لشکرکے ، غرق کیا اور بنی اسرائیل کو نجات دی۔ ان کو ایک عرصہ تک زمین کا اقتدار سونپا گیا تاکہ ان کے ذریعہ اللہ نے اپنی تقدیر کو ظاہر کرے اور اپنے ارادے پورے کرے۔ رہے ثمود تو اللہ نے ان کو ہلاک کردیا اور حضرت صالح (علیہ السلام) کی معیت میں ایک چھوٹی سی تعداد نے نجات پائی لیکن اس کے بعد اس تعداد کو زمین کا اقتدار نہ دیا گیا تھا ، صرف یہ ہوا کہ ان فاسقوں سے ان کو نجات ملی۔

یہ دونوں واقعات اللہ کے ارادہ مطلقہ اور اللہ کی بےقید مشیت کا نمونہ تھے۔ اور دعوت اسلامی کے دو نمونے تھے کہ ان کے دو نتائج میں سے کوئی نتیجہ نکلنے کا احتمال ہے۔ ہاں ایک تیسرا احتمال بھی ہے جو اصحاب اخدود کو پیش آیا۔ یہ واقعات مکہ میں کام کرنے والی مٹھی بھرتحریک اسلامی کو بتائے جارہے تھے کہ دعوت الی اللہ کو ان میں سے کوئی واقعہ پیش آسکتا ہے ، نہ صرف مکہ میں کام کرنے والے مسلمانوں کو یہ نقشہ دکھایا جارہا تھا بلکہ آنے والی نسلوں کو بھی۔

آخر میں پردہ احساس پر دو قومی ضربات لگائی جاتی ہیں ، دونوں میں ایک فیصلہ کن بات ہے اور آخری فیصلہ ہے۔